نوشکی(نامہ نگار)فرنٹیئر کور (ایف سی) کے قافلے پر خودکش حملے میں 3اہلکاروں سمیت 5 افراد شہید اور 12 سے زائد زخمی ہوگئے، متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جس کے باعث پولیس نے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کردیا۔
سرکاری ٹی وی کے مطابق سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے آج صبح نوشکی کے مقام پر ایف سی کے قافلے پر بارودی مواد کا دھماکا اور خود کش حملہ کیا، سیکیورٹی فورسز نے حملہ آور دہشت گردوں کے خلاف فوری موثر جوابی کاروائی کی۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ابتدائی جوابی کارروائی میں خود کش حملہ آور کے علاوہ مزید 3 دہشت گرد جہنم واصل کر دیے گئے جبکہ بزدلانہ خود کش حملے میں ایف سی کے 3 جوان اور 2 سویلین شہید ہو گئے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنیس آپریشن شروع کر دیا ہے، سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے بھاگنے والے تمام راستے بلاک کر دیے ہیں، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک کلیئرنس آپریشن جاری رہے گا۔
قبل ازیں، نوشکی کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) ظفر اللہ سملانی کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک خودکش حملہ تھا۔
ایس ایچ او نوشکی کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ ایک خودکش حملہ آور نے دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی ایف سی کے قافلے سے ٹکرائی۔
پولیس کے مطابق دھماکے میں 5 اہلکار جاں بحق 12 سے زائد زخمی ہوگئے، زخمیوں کو ایف سی کیمپ اور نوشکی ٹیچنگ اسپتال منتقل کیا جارہا ہے جہاں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے، متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جس کے باعث اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکا پاک ایران شاہراہ این 40 پر ہوا، جس کی آواز دور دور تک سنی گئی، دھماکے کے بعد سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری نےعلاقےکاگھیراؤ کرلیا۔

