خیبر پختونخوا کے شہر نوشہرہ میں دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی جامع مسجد میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا حامد الحق سمیت 6 افراد شہید اور 20 زخمی ہوگئے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق حقانیہ مدرسہ اکوڑہ خٹک میں دھماکے کی اطلاع ریسکیو کنٹرول روم کو موصول ہوئی، اطلاع ملنے پر ریسکیو ٹیمیں 6 ایمبولینس بمعہ میڈیکل ٹیموں اور فائر ٹیم موقع پر پہنچ گئی۔بیان میں کہا گیا کہ دھماکے نتیجے میں 20 افراد زخمی ہوئے جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے۔
آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے کہا کہ حملہ ٹارگیٹڈ تھا جس میں 3 سے 4 افراد شہید ہوئے، حملے میں مولانا حامد الحق نشانہ تھے۔
بعد ازاں، غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق شہید کے بھائی مولانا عبدالحق نے بتایا کہ حملہ آور دھماکا خیز مواد سے بھری خودکش جیکٹ پہنا ہوا تھا، وہ دارالعلوم حقانیہ کے مدرسے کے احاطے میں ایک مسجد سے نکلتے ہوئے مولانا حامد الحق تک پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ مولانا حامد الحق دھماکے میں موقع پر ہی شہید ہو گئے اور 2 درجن کے قریب افراد زخمی ہوئے۔واضح رہے کہ مولانا سمیع الحق کے بیٹے حامد الحق دارالعلوم حقانیہ کے نائب مہتمم بھی تھے۔
دھماکے کے بعد پولیس نے علاقےکو گھیرے میں لے لیا، جبکہ ڈی پی او نوشہرہ عبدالرشید کے مطابق دھماکا خودکش تھا۔پولیس کے مطابق دھماکا جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے بعد مسجد کے مرکزی ہال میں ہوا۔دھماکے کے بعد نوشہرہ کے ہسپتالوں کے علاوہ پشاور کے تین بڑے ہسپتالوں میں بھی ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ اور پی ٹی آئی کے رہنما ڈاکٹر بیرسٹر سیف نے خودکش حملے میں مولانا حامد الحق کی شہادت کی تصدیق کردی، انہوں نے کہا کہ مولانا حامد الحق کی شہادت ایک ناقابل تلافی نقصان ہے، مولانا حامد الحق ایک جید عالم دین تھےاسلام کے لیے بے پناہ خدمات ناقابل فراموش ہیں۔

