نیتن یاہو کی اپنے خلاف بدعنوانی کے مقدمے کی سماعت مؤخر کرنے کی درخواست مسترد

اسرائیلی عدالت کا سخت مؤقف، وزیراعظم کی سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد ناقابل قبول قرار

یروشلم (الجزیرہ/نمائندہ خصوصی)اسرائیلی عدالت نے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کی اپنے خلاف بدعنوانی کے مقدمے کی سماعت مؤخر کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے پیش کی گئی درخواست میں کوئی ایسا قانونی یا تفصیلی جواز پیش نہیں کیا گیا جو عدالتی کارروائی کو روکنے کیلئےکافی ہو۔

سیکیورٹی وجوہات کا حوالہ، عدالت کا انکار
نیتن یاہو کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ انہیں آئندہ دو ہفتوں کے لیے عدالت میں پیش ہونے سے مستثنیٰ قرار دیا جائے، کیونکہ وہ ایران کے ساتھ حالیہ 12 روزہ جنگ کے بعد سیکیورٹی معاملات پر توجہ دینا چاہتے ہیں۔تاہم، یروشلم ڈسٹرکٹ کورٹ نے آن لائن جاری کردہ فیصلے میں مؤقف اپنایا کہ “درخواست میں کارروائی مؤخر کرنے کیلئے کوئی واضح اور ٹھوس وجہ یا قانونی بنیاد فراہم نہیں کی گئی۔”

نیتن یاہو کا مؤقف اور مقدمات کی تفصیل
اسرائیلی وزیراعظم نے اب تک اپنے خلاف تمام بدعنوانی کے الزامات کی تردید کی ہے، جبکہ ان کے حامی ان الزامات کو ایک سیاسی سازش قرار دیتے ہیں۔

بدعنوانی سے متعلق یہ تین مقدمات طویل عرصے سے زیر سماعت ہیں پہلے مقدمے میں نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ سارہ پر الزام ہے کہ انہوں نے سگار، زیورات، شیمپئن اور دیگر قیمتی تحائف کی صورت میں 260000 امریکی ڈالر سے زائد مالیت کے تحائف ارب پتی افراد سے سیاسی مفادات کے بدلے وصول کیے۔دو دیگر مقدمات میں ان پر دو اسرائیلی میڈیا اداروں سے اپنے حق میں مثبت کوریج حاصل کرنے کیلئےسودے بازی کی کوشش کا الزام ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کا ردعمل
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف مقدمے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے “ڈائن کا شکار” قرار دیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ “اس مقدمے کو فوراً ختم کیا جانا چاہیے یا پھر اس عظیم ہیرو کو معافی دے دی جائے۔”

سیاسی اثرات اور عدالتی دباؤ
تجزیہ کاروں کے مطابق ان مقدمات کی روشنی میں نیتن یاہو کو نہ صرف سیاسی بلکہ قانونی مشکلات کا بھی سامنا ہے، جبکہ دوسری جانب عدالت اس مقدمے کو قانونی دائرے میں مکمل کرنے کیلئےپرعزم ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں