سانچا: ساؤتھ آکلینڈ (نمائندہ خصوصی)نیوزی لینڈ کے ساؤتھ آکلینڈ میں ایک پرسکون سکھ مذہبی جلوس (نگار کیرتن) کے دوران مظاہرین نے راستہ روک کر تنازعہ کھڑا کیا جس نے سکیورٹی فورسز کو مداخلت پر مجبور کر دیا۔مظاہرین ایک گروہ سے تعلق رکھتے تھے جو عیسائی بنیاد پرست تنظیم سے وابستہ تھے اور انہوں نے روڈ بلاک کر کے “ہاکا” نامی روایتی رقص کیا جو عام طور پر ماوری ثقافت میں ایک جذباتی اظہار تصور ہوتا ہے۔
احتجاج کرنے والے مظاہرین نے سڑک پر پلے کارڈز بھی لگائے جن پر نعرے درج تھے جیسے “یہ نیوزی لینڈ ہے، بھارت نہیں”، “کیویز پہلے” اور دیگر مذہبی نعرے، جن کا مقصد سکھ جلوس کی طرف سے ہندوستانی ثقافت کے اثرات پر اعتراض ظاہر کرنا تھا۔پولیس نے واقعے کی انجام دہی کے دوران دونوں گروہوں کو علیحدہ رکھا اور کوئی براہِ راست جھڑپ نہیں ہوئی، نیز پولیس نے جلوس کو محفوظ طریقے سے آگے بڑھایا۔ شرکاء نے تنازع کو بڑھائے بغیر پر امن رویہ اختیار رکھا۔
اس واقعہ پر نیوزی لینڈ کے ساتھ ساتھ بھارت میں بھی سیاسی اور مذہبی رہنماؤں، بشمول نامور سکھ رہنماؤں نے سخت مذمت کی ہے اور اس کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، ساتھ ہی متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقلیتی برادریوں کے حقِ اظہار اور مذہبی تقریبات کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔نیوزی لینڈ میں بڑھتی ہوئی مہاجرت، رہائشی دباؤ، اور مذہبی آزادی پر بحث کے پسِ منظر میں یہ واقعہ ایک حساس تنازعے کی صورت اختیار کر گیا ہے، جس نے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر ردعمل کو جنم دیا ہے۔

