“نیویارک، نئے چہروں کا شہر”

دنیا بدل رہی ہے، یا یوں کہیے کہ دنیا اپنی بنیادوں پر دوبارہ تعمیر ہو رہی ہے۔ وہ سرزمینیں جو کبھی “امیگرنٹس کے لیے دروازے بند” کرنے کا نعرہ بلند کرتی تھیں، آج انہی کے کندھوں پر اپنی سیاست، معیشت اور شناخت کا بوجھ اٹھائے کھڑی ہیں۔ امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور یورپ وہی ترقی یافتہ دنیا جنہوں نے کبھی کہا تھا کہ “ہمیں اپنے شہری پہلے چاہییں” اب خاموشی سے یہ تسلیم کر رہی ہیں کہ ان کا کل اور آج، دونوں امیگرنٹس کے مرہونِ منت ہیں۔ اسی تناظر میں نیویارک کے حالیہ میئر کے انتخابات نے دنیا کو ایک نیا اشارہ دیا ہے۔

امریکہ کی سیاسی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب نیویارک جیسے طاقتور، تاریخی اور بین الاقوامی شہر کی قیادت مسلمان اور جنوبی ایشیائی نژاد امریکی کے ہاتھوں میں آئی ہے۔ Zohran Mamdani کی جیت محض سیاسی کامیابی نہیں، بلکہ علامت ہے اس بات کی کہ ٹرمپ ازم کے شور میں بھی امید کا چراغ بجھا نہیں۔

امریکہ وہی ملک ہے جہاں کچھ عرصہ قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران امیگریشن کے خلاف سخت بیانیہ اپنایا۔ انہوں نے غیر قانونی تارکینِ وطن کو “خطرہ” قرار دیا، H-1B ویزا کے لیے ایک لاکھ ڈالر کی شرط رکھی، اور وعدہ کیا کہ “امیگرنٹس کی حوصلہ شکنی” ہی امریکہ کے مستقبل کی ضمانت ہے۔ لیکن تھوڑے عرصہ بعد اسی ملک کے سب سے بڑے شہر نے ایک امیگرنٹ نژاد مسلمان کو اپنا میئر منتخب کر لیا۔

ٹرمپ کی سیاست خوف پر کھڑی تھی۔ “Build the Wall” کا نعرہ صرف میکسیکو کے ساتھ سرحد پر دیوار کھڑی کرنے کا وعدہ نہیں تھا، بلکہ ذہنی دیواریں کھڑی کرنے کی علامت تھی۔ مگر سماج ہمیشہ دیواروں سے بڑا ہوتا ہے۔ امریکہ کی معیشت، سائنس، ٹیکنالوجی اور صحت کے نظام میں امیگرنٹس کی شمولیت اس حد تک گہری ہے کہ انہیں باہر نکالنے کا مطلب خود اپنے جسم سے سانس چھیننا ہے۔ یہی تضاد آج نیویارک کے انتخاب میں عیاں ہوا جہاں عوام نے “خوف” کے بیانیے کے مقابلے میں “امید” کو چنا۔

یہ سلسلہ نیویارک تک محدود نہیں۔ برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں صادق خان کی میئر شپ پہلے ہی تاریخی موڑ بن چکی ہے۔ پاکستانی نژاد مسلمان کی قیادت میں لندن دنیا کے سب سے زیادہ متنوع اور کھلے شہروں میں شمار ہوتا ہے۔

امریکہ میں ہیوسٹن اور مشی گن کے شہر ڈیئربورن بھی انہی تبدیلیوں کے استعارے ہیں جہاں مسلمان اور عرب نژاد امریکی اب صرف ووٹر نہیں، بلکہ فیصلہ ساز ہیں۔ ہیوسٹن کی مقامی کونسل میں مسلمان نمائندوں کی موجودگی اور ڈیئربورن کے میئر عبداللہ حمود کا انتخاب بتاتا ہے کہ امیگرنٹس اب امریکی شہروں کے مستقبل کا تعین کر رہے ہیں، نہ کہ صرف ان کے پچھلے صفحات میں درج ہیں۔

یہ درست ہے کہ امیگریشن طاقتور سیاسی بیانیہ بن چکا ہے۔ “امیگرنٹس کو روکو” کے نعرے ووٹ تو دلا سکتے ہیں، مگر ملک نہیں چلا سکتے۔ نیویارک، لندن، ٹورنٹو، سڈنی سب شہروں کا معاشی توازن انہی ہاتھوں پر قائم ہے جو کبھی باہر سے آئے تھے۔ ڈاکٹر، انجینئر، محنت کش، سرمایہ کار، سبھی وہ تارکین ہیں جنہوں نے ان معاشروں کو نئی سانس دی۔

نیویارک کے نئے میئر کا انتخاب صرف سیاسی واقعہ نہیں، بلکہ معیشت، ثقافت اور شناخت کی نئی جہت کا اعلان ہے۔ نومبر کا یہ آغاز شاید تاریخ کے ایک نئے باب کی تمہید ہے، وہ باب جس میں “امیگرنٹس کو واپس دھکیلنا” سیاست تو ہو سکتی ہے، مگر حقیقت نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ سمیت مغرب کے تمام ترقی یافتہ ممالک اپنی ترقی کی گاڑی انہی تارکین کے کندھوں پر چلا رہے ہیں۔ اب وہ وقت آ چکا ہے کہ “امیگرنٹ” کا لفظ خوف نہیں، فخر کی علامت بن جائے۔

نیویارک کے اس انتخاب نے واضح کر دیا کہ مستقبل کی سیاست اب نسل، مذہب یا شناخت کی دیواروں پر نہیں، بلکہ صلاحیت، خدمت اور وژن کی بنیاد پر لکھی جائے گی۔ دنیا کے اس بدلتے منظرنامے میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ٹرمپ کی دیوار گر چکی ہے، اور اس کی جگہ Zohran Mamdani جیسے لوگ وہ دروازے کھول رہے ہیں جو نئی، روشن اور زیادہ انسانی دنیا کی طرف جاتے ہیں۔

امریکہ میں نیویارک کے علاوہ بھی کئی شہروں میں سابق امیگرنٹ یا مسلم امیگرنٹ پس منظر کے حامل افراد عوامی عہدوں پر منتخب ہو چکے ہیں۔ مثال کے طور پر، Amer Ghalib یمن سے امریکہ آنیوالے امیگرنٹ تھے جنہیں نومبر 2021 میں میشی گن کے شہر Hamtramck کی میئر شپ ملی اور وہ اس شہر کے پہلے مسلم اور عرب امریکی میئر بنے۔ اسی طرح، Abdullah Hammoud، جو لبنان سے امیگرنٹ والدین کے بیٹے ہیں، نومبر 2021 میں مشی گن کے شہر Dearborn کے میئر منتخب ہوئے اور وہ اس شہر کے پہلے مسلم اور عرب امریکی میئر ہیں۔ یہ دونوں مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ امیگرنٹس نہ صرف شہریت کے مراحل طے کرکے بلکہ مقامی سیاسی رہنماؤں کے طور پر بھی کامیابی حاصل کر رہے ہیں، اور امریکہ میں دیگر شہروں میں بھی یہ رجحان جاری ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں