واشنگٹن(بیورورپورٹ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے درمیان اوول آفس میں شدید بحث ہوئی، جس میں ٹرمپ نے زیلنسکی پر الزام لگایا کہ وہ “تیسری عالمی جنگ کے ساتھ کھیل رہے ہیں”۔
تفصیلات کے مطابق یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران بار بار جھڑپیں ہوئیں اور سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔یوکرینی صدر نے ٹرمپ کو روس کے ساتھ محتاط رہنے کا مشورہ دیا، جس پر امریکی صدر ٹرمپ نے ان پر گستاخی کا الزام لگایا، اس ملاقات کے دوران دونوں کے فکر و نظر میں اختلافات بھی کھل کر سامنے آگئے۔
دونوں صدور کی ملاقات وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں ایک معاہدے پر دستخط سے قبل ہوئی، یہ معاہدہ متوقع طور پر یوکرین کی معدنی صنعت میں امریکی شراکت داری پر مبنی ہے۔ تاہم زیلنسکی نے امریکی صدر کو کھلے عام چیلنج کیا اور کہا کہ وہ روسی صدر پیوٹن کے بارے میں کافی نرم رویہ رکھے ہوئے ہیں۔
زیلنسکی نے ٹرمپ کے ان دعووں کو بھی مسترد کردیا جس میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ تین سالہ جنگ میں یوکرائن کے شہر ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔یہ ملاقات اس ہفتے کے آخر میں لندن میں ہونے والے یورپی رہنماؤں کے اجلاس سے پہلے ہوئی، جس کا بنیادی مقصد دفاعی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
اس موقع پر صدر ٹرمپ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پیوٹن ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ نے یوکرینی صدر سے کہا کہ وہ تیسری عالمی جنگ کا جوا کھیل رہے ہیں انھیں چاہیے کہ وہ شکر گزار ہوں۔
اس موقع پر امریکی نائب صدر جے ڈی وانس نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ اوول آفس میں اس قسم کی گفتگو کا انداز توہین آمیز ہے جس سے ٹرمپ نے اتفاق کیا۔ اس دوران اونچی آواز میں گفتگو کے دوران امریکی صدر نے کہا کہ لوگ مر رہے ہیں اور آپ فوجیوں کی کمی کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے یوکرین پر سخت مؤقف اختیار کیا، زور دیتے ہوئے کہا کہ “اگر یوکرین امن مذاکرات کی طرف نہیں بڑھتا، تو امریکہ اپنی فوجی امداد پر نظرثانی کرے گا۔”زیلنسکی نے امریکی حمایت برقرار رکھنے پر زور دیا اور کہا کہ یوکرین روسی جارحیت کے خلاف اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے۔
ملاقات کے دوران نیٹو کے مستقبل اور یورپی ممالک کی دفاعی پالیسیوں پر بھی بات چیت ہوئی، جس میں امریکی صدر نے یورپ سے زیادہ ذمہ داری لینے کا مطالبہ کیا۔
یورپی رہنماؤں نے یوکرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور ٹرمپ کے مؤقف کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ روسی حکام نے ٹرمپ کے بیان کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ “امن مذاکرات وقت کی ضرورت ہیں۔” لندن میں ہونے والا اجلاس انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے، جہاں نیٹو اتحادی یوکرین کیلئے مزید امداد پر غور کریں گے۔یہ واقعہ امریکہ اوریوکرین تعلقات میں ممکنہ تبدیلی کا اشارہ دے سکتا ہے اور عالمی طاقتوں کے درمیان سفارتی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

