واروک کراؤن کورٹ :12 سالہ بچی کے اغوا اور زیادتی کے تمام الزامات ثابت، مجرم کو ملک بدری کا سامنا ہو گا
واروک (مانیٹرنگ ڈیسک/ نیوز ایجنسی) برطانیہ کے شہر نونیٹن میں 12 سالہ بچی کے اغوا اور اسے زیادتی کا نشانہ بنانے کے لرزہ خیز کیس میں عدالت نے 23 سالہ افغان پناہ گزین احمد ملا خیل کو تمام الزامات میں مجرم قرار دے دیا ہے۔ جیوری کے متفقہ فیصلے کے بعد جج کرسٹینا مونٹگمری نے ریمارکس دیے کہ مجرم کو طویل قید کے بعد لازمی طور پر ملک بدر کر دیا جائیگا۔
“پارک سے بند گلی تک”
مقدمے کی سماعت کے دوران پراسیکیوٹرز نے بتایا کہ گزشتہ برس 22 جولائی کو احمد ملا خیل نے مارلبورو پارک میں جھولوں پر کھیلتی ہوئی ایک معصوم بچی کو نشانہ بنایا۔ رنگ ڈور بیل (Ring Doorbell) کی فوٹیج سے ثابت ہوا کہ مجرم نے بچی کو پارک سے ورغلا کر ایک سنسان رہائشی علاقے ‘چیورل پلیس’ کی طرف لے جانے سے پہلے اس کی عمر کے بارے میں بھی سوالات کیے تھے۔
“درندگی کی ویڈیو اور عدالتی کارروائی”
عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم نے نہ صرف بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا بلکہ اس گھناؤنے فعل کی ویڈیو بھی بنائی، جسے استغاثہ نے “انتہائی غلیظ حرکت” قرار دیا۔ اگرچہ ملزم نے دعویٰ کیا کہ وہ بچی کو 19 سال کی سمجھ رہا تھا، تاہم جیوری نے اس کے تمام عذر مسترد کر دیے۔
“عدالتی فیصلہ اور الزامات”
سات گھنٹے کی طویل مشاورت کے بعد جیوری نے درج ذیل الزامات پر مجرم کو سزا سنائی.
ریپ: 13 سال سے کم عمر بچی کے ساتھ زیادتی کے دو الزامات (ایک کا اعتراف وہ پہلے ہی کر چکا تھا)۔
جنسی حملہ: دو مختلف الزامات۔
اغوا: بچی کو غیر قانونی طور پر لے جانا۔
غیر اخلاقی ویڈیو: بچی کی نازیبا فلم بنانا۔
دوسری جانب، شریک ملزم 24 سالہ محمد کبیر کو تمام الزامات سے بری کر دیا گیا کیونکہ عدالت میں یہ ثابت نہ ہو سکا کہ وہ اس تشدد میں براہ راست شریک تھا۔
“سیاسی تناؤ اور عوامی ردعمل”
واقعے نے اگست 2025 میں برطانیہ بھر میں ایک نئی بحث چھیڑ دی تھی۔ ریفارم یو کے کے سربراہ نائجل فراج سمیت دیگر سیاسی حلقوں نے پولیس پر تارکینِ وطن کی تفصیلات چھپانے کا الزام لگایا تھا، جس کے بعد نونیٹن ٹاؤن ہال کے باہر بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے اور سول نافرمانی کی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔
وارک عدالت میں پیش کیے گئے شواہد کے مطابق رنگ ڈور بیل فوٹیج میں ملزم احمد ملاخیل کو بچی سے اس کی عمر کے بارے میں سوال کرتے دیکھا گیا۔ استغاثہ کا کہنا تھا کہ متاثرہ بچی کی کم عمری واضح تھی، تاہم ملزم نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ اسے گمان تھا کہ لڑکی کی عمر 19 سال ہے۔
سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم بچی کو چیوریل پلیس کے ایک سنسان سبزہ زار تک لے گیا، جو ایک خاموش رہائشی گلی ہے اور بزرگ افراد کے کمپلیکس کے قریب واقع ہے۔ پراسیکیوشن کے مطابق اسی مقام پر زیادتی اور جنسی حملے کیے گئے۔
جیوری کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ ملزم نے واردات کی ویڈیو اپنے موبائل فون سے بنائی، جسے استغاثہ نے نہایت قابلِ نفرت عمل قرار دیا۔سات گھنٹے کی مشاورت کے بعد جیوری نے متفقہ طور پر 13 سال سے کم عمر بچی سے زیادتی کے دو الزامات (جبکہ ایک الزام ملزم پہلے ہی تسلیم کرچکا تھا)، دو جنسی حملوں، بچی کے اغوا اور نازیبا ویڈیو بنانے کے جرم میں قصوروار قرار دے دیا۔
ملزم کے شریکِ ملزم 24 سالہ محمد کبیر کو تمام الزامات سے بری کردیا گیا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ وہ موقع پر موجود تھا لیکن جنسی تشدد میں شریک نہیں تھا۔یہ مقدمہ اگست 2025 میں سیاسی کشیدگی کا باعث بنا تھا اور نیویٹن ٹاؤن ہال کے باہر بڑے پیمانے پر مظاہرے بھی ہوئے تھے۔ بعض سیاسی شخصیات نے وارکشائر پولیس پر ملزمان کی امیگریشن حیثیت سے متعلق معلومات چھپانے کا الزام عائد کیا تھا، جسے پولیس نے مسترد کردیا تھا۔
جج کرسٹینا مونٹگمری کے سی نے ملزم کو سزا سنائے جانے تک حراست میں رکھنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اسے طویل قید کی سزا سنائی جائیگی اور سزا مکمل ہونے پر وہ خودکار طور پر ملک بدری کا اہل ہوگا۔

