امریکی حکام نے ایک علاقائی جیٹ اور واشنگٹن کے ہوائی اڈے پر امریکی فوج کے ہیلی کاپٹر کے فضائی حادثے میں 67 افراد ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے مگر ابھی تک حادثے کی کوئی واضح وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔مسافر طیارے میں 64 جبکہ امریکی فوج کے ہیلی کاپٹر پر تین اہلکار سوار تھے۔ہیلی کاپٹراور طیارے پر سوار 67افراد میں سے کوئی زندہ نہیں بچ سکا.مسافروں میں امریکی اور روسی فگر اسکیٹر بھی شامل تھے.امریکی حکام کہا ہے کہ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ ایک علاقائی جیٹ واشنگٹن کے ہوائی اڈے پر امریکی فوج کے ہیلی کاپٹر سے کیوں ٹکرا گیا تاہم ، 20 سال سے زیادہ عرصے میں یہ سب سے مہلک امریکی فضائی حادثے ہے جس میں 67 افراد ہلاک ہوئے۔
امریکن ائیرلائن کا بمبار جیٹ طیارہ جس میں 60 مسافر اور عملے کے چار ارکان سوار تھے آرمی کے بلیک ہاک ہیلی کاپٹر سے ٹکرا گیا اور بدھ کی رات رونالڈ ریگن واشنگٹن نیشنل ایئرپورٹ پر اترنے کی تیاری کرتے ہوئے دریائے پوٹومیک میں گر کر تباہ ہو گیا۔
تمام متاثرین کے نام ابھی تک جاری نہیں کیے گئے ہیں، لیکن ان میں بہت سے ہونہار نوجوان فگر سکیٹرز اور کنساس کے لوگ شامل تھے، جہاں سے پرواز شروع ہوئی تھی۔ سینیٹر ماریا کینٹ ویل نے کہا کہ طیارے میں ہلاک ہونے والوں میں روس، فلپائن اور جرمنی کے شہری شامل ہیں۔ہلاک ہونیوالوں میں ایک پاکستانی خاتون بھی شامل ہیں جس کا نام عذرا حسین بتایا جارہا ہے ۔
نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کے تفتیش کاروں نے کہا ہے کہ وہ 30 دنوں کے اندر ابتدائی رپورٹ دیں گے۔ تفتیش کاروں نے ہوائی جہاز سے کاک پٹ وائس ریکارڈر اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر برآمد کیا۔ایجنسی نے ہیلی کاپٹر کے کچھ حصوں سمیت ملبہ اکٹھا کرنا شروع کر دیا ہے اور اسے ریگن نیشنل کے ہینگر میں محفوظ کر رہا ہے۔ واشنگٹن کے فائر اینڈ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ نے کہا ہے کہ اس کے غوطہ خوروں نے تمام قابل رسائی علاقوں کی تلاشی لی ہے اور جمعہ کو طیارے کے اجزاء کو تلاش کرنے کیلئے اضافی تلاشی لی جائے گی۔

