ذرائع( رائٹرز، اے ایف پی، اے پی، ٹائمز آف انڈیا)امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو واضح انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کر کے جوہری معاہدہ نہ کیا تو اگلا حملہ گزشتہ کارروائی سے کہیں زیادہ بدترین ہوگا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ ایک بہت بڑا بحری بیڑا ایران کی طرف بڑھ رہا ہے جس کی قیادت طیارہ بردار بحریجہاز ابراہم لنکن کر رہا ہے، اور ضرورت پڑنے پر طاقت کے ساتھ اپنا مشن مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ ایران جلد مذاکرات کی میز پر آئے گا اور ایک منصفانہ، مساوی اور غیر جوہری معاہدے پر بات چیت کرے گا جو تمام فریقین کے لیے بہتر ہو۔ انہوں نے کہا کہ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور معاملہ انتہائی اہم ہے۔
امریکی صدر نے اپنے بیان میں گزشتہ آپریشن مڈنائٹ ہیمر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے پہلے معاہدہ نہیں کیا تھا اور پھر اسے بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑا، اس لیے مستقبل میں اگر مذاکرات نہیں ہوئے تو اگلے حملے کے نتائج کہیں زیادہ سنگین ہوں گے۔
یہ تناؤ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں امریکہ نے اپنے فوجی اثاثوں کو بڑھایا ہے اور ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی ممکنہ حملے کو پورے ملک کے خلاف جنگ کے طور پر دیکھا جائے گا۔

