واشنگٹن: شٹ ڈاؤن دوسرے مہینے میں داخل، لاکھوں امریکی خوراک کے بحران سے دوچار

واشنگٹن(اے ایف پی، ڈان نیوز، فاکس نیوز، وائٹ ہاؤس پریس بریفنگ)امریکی حکومت کا شٹ ڈاؤن اپنے دوسرے مہینے میں داخل ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں وفاقی ادارے مفلوج، ملازمین بے روزگار اور عوام خوراک کے بارے میں فکرمند ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، وفاقی ملازمین کے پاس پیسے ختم ہو چکے ہیں، خوراک کی امداد معطل ہو رہی ہے، اور ملک بھر میں لاکھوں امریکی براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔

“سیاسی بحران معاشی ہلچل میں بدل گیا”
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق، یکم اکتوبر کو واشنگٹن کے سیاسی تعطل سے شروع ہونے والا یہ بحران اب سرکاری خدمات کے زوال اور معاشی ہلچل کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت مفلوج ہو کر رہ گئی ہے، متعدد وفاقی دفاتر بند ہیں، اور اہم پروگراموں کے لیے فنڈز ختم ہونے کے قریب ہیں۔

ریپبلکن رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ اس ہفتے کے اختتام تک لاکھوں امریکیوں کو شٹ ڈاؤن کے براہِ راست اثرات محسوس ہوں گے، خاص طور پر وہ جو صحت کی دیکھ بھال اور خوراک کی امداد پر انحصار کرتے ہیں۔

“’اوباما کیئر‘ سبسڈی تنازع کا مرکز”
بحران کی جڑ وہ فنڈز ہیں جو امریکیوں کے لیے صحت بیمہ سبسڈی کے طور پر دیے جاتے ہیں، جسے عام طور پر اوباما کیئر کہا جاتا ہے۔یہ سبسڈیز دو کروڑ سے زائد افراد کے لیے زندگی کی ضمانت ہیں، تاہم یہ سال کے اختتام پر ختم ہونے والی ہیں۔

اگر کانگریس نے اقدامات نہ کیے تو نئے اندراجی مرحلے میں پریمیمز میں شدید اضافہ ہو جائے گا۔ڈیموکریٹس اور ریپبلکن دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف سخت مؤقف پر قائم ہیں۔ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ جب تک سبسڈی بڑھانے کا معاہدہ نہیں ہوتا، حکومت دوبارہ نہیں کھولی جائے گی، جبکہ ریپبلکن کا مؤقف ہے کہ جب تک حکومت بحال نہیں ہوتی، مذاکرات ممکن نہیں۔

“خوراک کا بحران گہرا ہونے لگا”
واشنگٹن کی سیاسی کشمکش اب عام شہریوں کے گھروں کی میزوں تک پہنچ چکی ہے۔سپلیمنٹل نیوٹریشن اسسٹنس پروگرام (SNAP) جو 4 کروڑ 20 لاکھ کم آمدنی والے امریکیوں کو خوراک خریدنے میں مدد دیتا ہے، اس ہفتے کے اختتام تک فنڈز سے محروم ہونے والا ہے۔

ڈیموکریٹس نے وائٹ ہاؤس سے 5 ارب ڈالر کے ایمرجنسی فنڈ سے خوراک کی امداد بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے، لیکن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ قانونی طور پر وہ یہ رقم استعمال نہیں کر سکتی۔

“ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر کا انتباہ”
اسپیکر مائیک جانسن نے کہا”ہم اب ٹوٹنے کے مقام پر پہنچ چکے ہیں، کیونکہ ڈیموکریٹس نے حکومت کے فنڈز کے حق میں 14 بار ووٹ دینے سے انکار کیا ہے۔ اب حقیقی خاندان اور بچے بھوک کا سامنا کریں گے۔”

شٹ ڈاؤن کے اختتام کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے جبکہ نئی ڈیڈ لائنز تیزی سے قریب آ رہی ہیں۔

“زچگی اور بچوں کی امداد بھی خطرے میں”
حاملہ خواتین، نئی ماؤں اور بچوں کیلئے خوراک کی امداد کا پروگرام بھی متاثر ہو سکتا ہے۔65 ہزار نوزائیدہ بچوں کیلئے غذائی اور خاندانی معاونت کے منصوبے اس ہفتے سے بند ہونا شروع ہو سکتے ہیں۔انتظامیہ نے فی الحال فوجی اہلکاروں کی تنخواہوں کیلئے عارضی بندوبست کیا ہے، مگر وسط نومبر تک وہ بھی تنخواہوں سے محروم ہو سکتے ہیں۔

“دس لاکھ وفاقی ملازمین متاثر”
تقریباً 6 لاکھ 70 ہزار وفاقی ملازمین کو بغیر تنخواہ کے گھروں پر بھیج دیا گیا ہے، جبکہ 7 لاکھ 30 ہزار دیگر (جن میں پارک رینجرز اور ایئر ٹریفک کنٹرولرز شامل ہیں) بغیر معاوضے کے کام کر رہے ہیں۔ان میں سے بیشتر کو اس ہفتے اپنی پہلی مکمل تنخواہ نہیں ملی۔وفاقی ملازمین کی یونین “AFGE” نے کانگریس سے فوری عارضی بل پاس کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ تنخواہوں کی ادائیگی دوبارہ شروع ہو سکے، مگر یہ معاملہ بھی سیاسی تعطل کا شکار ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں