واشنگٹن :ٹرمپ کے مستعفی مشیر جو کینٹ کےایران جنگ پر اہم انکشافات

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی)امریکا میں انسدادِ دہشت گردی مرکز کے سابق سربراہ جو کینٹ نے ایران جنگ کے پس منظر پر اہم انکشافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تنازع میں امریکا کو دھکیلنے میں اسرائیل کا کردار تھا۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق جو کینٹ نے ایران جنگ کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دینے کے بعد ایک انٹرویو میں کہا کہ 2004ء سے ایران میں ایک مذہبی فتویٰ نافذ ہے جو اسے جوہری ہتھیار بنانے سے روکتا ہے، جبکہ امریکی انٹیلی جنس کے پاس اس کے برعکس کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام کو فوری خطرہ قرار دینا درست نہیں تھا اور ایران جوہری ہتھیار بنانے کے قریب بھی نہیں تھا۔جو کینٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت نے امریکا سے اس کارروائی کا فیصلہ کروایا اور اسے یقین تھا کہ اگر جنگ شروع ہوئی تو امریکا کو اس میں شامل ہونا پڑے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے نتیجے میں ردعمل آنا یقینی تھا اور یہی کچھ ہوا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی ہلاکت سے ایران کمزور نہیں بلکہ مزید سخت گیر عناصر مضبوط ہو گئے ہیں۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے جو کینٹ کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی بیرونی دباؤ کے تحت فیصلے نہیں کرتے بلکہ وہ صرف امریکی مفاد کو مدنظر رکھتے ہیں۔صدر ٹرمپ کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کا کہنا تھا کہ امریکی صدر دنیا کی سب سے طاقتور ریاست اور فوج کے سربراہ ہیں اور وہ اپنے فیصلے آزادانہ طور پر کرتے ہیں۔