والد کو قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے، یہ واضح تشدد کے طریقے ہیں، عمران خان کے بیٹوں کا الزام

لندن(نمائندہ خصوصی)پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے والد کو جیل میں مکمل قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے، جو واضح طور پر تشدد کے طریقوں کے زمرے میں آتا ہے۔

برطانوی صحافی مہدی حسن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں قاسم اور سلیمان نے کہا کہ عدالتی احکامات کے باوجود عمران خان سے جیل ملاقاتیں اور فون کالز کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ان کے مطابق عمران خان کو ایک نہایت تنگ سیل میں رکھا گیا ہے جہاں انسانی رابطہ مکمل طور پر منقطع کر دیا گیا ہے، حتیٰ کہ جیل کے اہلکاروں کو بھی ان سے بات کرنے کی اجازت نہیں۔

قاسم خان نے کہا کہ حکومت کا یہ دعویٰ کہ عمران خان کو جیل میں شاہانہ سہولیات حاصل ہیں، حقیقت کے بالکل برعکس ہے۔ ان کے مطابق عمران خان کے سیل میں پانی گندا اور کھانا ناقص ہے، جبکہ انہیں شدید تنہائی کا سامنا ہے، جس کا مقصد انہیں ذہنی طور پر توڑنا ہے۔

سلیمان خان نے بتایا کہ انہوں نے آخری بار جولائی میں اپنے والد سے بات کی تھی، حالانکہ عدالتی فیصلوں کے مطابق ہفتہ وار فون کال کی اجازت ہونی چاہیے۔ قاسم خان کے مطابق انہوں نے ستمبر میں چند منٹ کے لیے بات کی، جبکہ نومبر 2022 کے بعد وہ اپنے والد سے ملاقات نہیں کر سکے۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کے غیر ملکی میڈیا کے ترجمان مشرف زیدی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کو قیدِ تنہائی میں نہیں رکھا گیا بلکہ سکیورٹی خدشات کے باعث انہیں مخصوص رہائشی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان کو ورزش، چہل قدمی، مطالعے اور علیحدہ باورچی سمیت دیگر سہولیات میسر ہیں، اور ان کے بچے غلط معلومات کا شکار ہیں۔

مشرف زیدی نے کہا کہ اگر عمران خان کے بیٹے پاکستان کا دورہ کرتے ہیں تو انہیں قانون کے مطابق تمام سہولیات دی جائیں گی، تاہم کسی بھی سیاسی سرگرمی کی صورت میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی قاسم اور سلیمان مختلف غیر ملکی میڈیا کو انٹرویوز میں یہ الزام عائد کر چکے ہیں کہ عمران خان کو جیل میں ’ڈیتھ سیل‘ جیسی صورتحال میں رکھا گیا ہے، جس پر بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔