نیویارک(نمائندہ خصوصی)نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی کو ورلڈ حجاب ڈے کے موقع پر اپنے دفتر برائے امورِ مہاجرین کی جانب سے شیئر کی گئی پوسٹ پر شدید ردِعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ پوسٹ میں حجاب کو عقیدت، شناخت اور فخر کی علامت قرار دیا گیا تھا، تاہم ایران میں لازمی حجاب کے خلاف جاری احتجاجی صورتحال کے تناظر میں اس پر سخت تنقید کی گئی۔
پوسٹ میں کہا گیا تھا کہ آج ہم دنیا بھر کی اُن مسلم خواتین اور بچیوں کے عقیدے، شناخت اور فخر کا جشن منا رہے ہیں جو حجاب پہننے کا انتخاب کرتی ہیں، جو عقیدت کی ایک طاقتور علامت اور مسلم ورثے کی نمائندگی ہے۔
ایرانی نژاد امریکی صحافی مسیح علی نژاد نے میئر کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “واقعی؟ اس وقت؟ ایران میں خواتین کو حجاب نہ پہننے پر گرفتار، تشدد اور موت کا سامنا ہے، اور آپ اس موقع پر جشن منا رہے ہیں۔” برنارڈ ہنری لیوی اور ترک نژاد امریکی ماہرِ معاشیات تیمور کوران نے بھی پوسٹ کو نامناسب قرار دیا اور وقت و پیغام پر سوال اٹھایا۔
یہ ردِعمل اس کے برعکس ہے، جب ممدانی نے ماضی میں اسلاموفوبیا کے خلاف بات کی تھی اور بتایا تھا کہ 11 ستمبر کے حملوں کے بعد ان کی خالہ نے حجاب پہننے کے باعث خود کو غیر محفوظ محسوس کیا اور سب وے میں سفر کرنا چھوڑ دیا تھا۔ انہوں نے سیاست میں آنے پر اپنے عقیدے کو نجی رکھنے کا مشورہ بھی بیان کیا تھا۔

