وزیراعظم جنرل اسمبلی کے اجلاس میں غزہ اور کشمیر پر عالمی توجہ مبذول کرائیں گے

نیویارک (نمائندہ خصوصی/ایجنسیاں) وزیراعظم شہباز شریف آج سے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس کے اعلیٰ سطحی سیشن میں پاکستان کے وفد کی قیادت کریں گے۔ وہ اپنے خطاب میں عالمی برادری کی توجہ غزہ کے سنگین بحران اور بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر مبذول کرائیں گے اور فیصلہ کن اقدامات کی اپیل کریں گے۔

حکومتی اعلامیے کے مطابق وزیراعظم اپنے خطاب میں فلسطینی عوام کی مشکلات کے خاتمے اور ان کے حقِ خودارادیت کے لیے آواز بلند کریں گے۔ اسی طرح وہ مقبوضہ کشمیر میں طویل بھارتی قبضے اور انسانی حقوق کی پامالی پر بھی عالمی برادری کو متوجہ کریں گے۔ وزیراعظم اپنے خطاب میں ماحولیاتی تبدیلی، دہشت گردی، اسلاموفوبیا اور پائیدار ترقی جیسے اہم عالمی مسائل پر بھی پاکستان کا موقف پیش کریں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف لندن سے نیویارک پہنچے ہیں، ان کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزراء اور اعلیٰ حکام بھی شامل ہیں۔ جنرل اسمبلی اجلاس کے دوران وزیراعظم آسٹریا کے چانسلر کرسچین اسٹوکر، کویت کے ولی عہد و وزیراعظم شیخ صباح الخالد، عالمی بینک کے صدر اجے بانگا اور آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سمیت دیگر رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔

وزیراعظم کی شرکت اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے ساتھ پاکستان کے کثیرالجہتی نظام اور عالمی امن و ترقی کے عزم کو اجاگر کرے گی۔ وہ یو این کے اعلیٰ سطحی اجلاسوں اور خصوصی تقریبات میں بھی شریک ہوں گے، جن میں ماحولیاتی اقدامات اور ’گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو‘ پر اجلاس شامل ہیں۔

“ٹرمپ کی عرب و مسلم رہنماؤں سے ملاقات”
نیویارک میں وزیراعظم شہباز شریف عرب اور مسلم ممالک کی خصوصی سربراہی کانفرنس میں بھی شریک ہوں گے، جس کی میزبانی امریکا اور قطر کر رہے ہیں۔ اس اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شریک ہوںگے۔

وہائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیوٹ کے مطابق ٹرمپ سعودی عرب، یو اے ای، قطر، مصر، اردن، ترکی، انڈونیشیا اور پاکستان کے رہنماؤں سے کثیرالجہتی ملاقات کریں گے۔ رائٹرز کے مطابق اجلاس میں غزہ کی صورتحال پر بات چیت ہوگی، جبکہ امریکی صدر جنگ کے بعد امن، اسرائیلی انخلا اور غزہ کی بعد از جنگ حکمرانی کا منصوبہ پیش کریں گے۔

ایکسِیوس کے مطابق امریکی منصوبے میں حماس کو شامل نہیں کیا جائے گا اور واشنگٹن عرب و مسلم ممالک سے توقع رکھتا ہے کہ وہ غزہ میں امن قائم رکھنے کیلئےافواج بھیجنے اور تعمیر نو پروگراموں کی فنڈنگ میں تعاون کریں۔

اپنا تبصرہ لکھیں