وزیراعظم کارنی سے ملاقات ،فرسٹ نیشنز کی ناراضگی برقرار،Bill C-5عدالت میں چیلنج

اوٹاوا (نامہ نگار +رائٹرز)کینیڈا کی نو فرسٹ نیشن اقوام نے وفاقی حکومت کے مجوزہ قانون Bill C-5 کے خلاف آئینی درخواست عدالت عالیہ میں دائر کر دی ہے، جس کے تحت حکومت کو قومی اہمیت کے منصوبوں کو تیز رفتاری سے منظور کرنے کا اختیار دیا جا رہا ہے۔ ان اقوام کا مؤقف ہے کہ یہ قانون ان کی زمین، خود ارادیت اور مشاورتی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم مارک کارنی نے آج فرسٹ نیشنز کے نمائندوں سے ملاقات کی تاکہ قانون C-5 سے متعلق تحفظات پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ تاہم متعدد رہنماؤں نے اس ملاقات کو محض “رسمی” قرار دیا اور کہا کہ حقیقی مشاورت اب تک نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قانون کے تحت بڑے منصوبوں، جیسے کان کنی، پائپ لائنز اور بندرگاہیں، ان کی رضامندی کے بغیر ان کی زمینوں پر شروع کیے جا سکتے ہیں۔

فرسٹ نیشنز کے رہنماؤں نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ Bill C-5 کو یا تو مکمل طور پر منسوخ کر دیا جائے یا اس کی عمل درآمد کو معطل کیا جائے، جب تک کہ مکمل، بامعنی اور آئینی مشاورت نہ کی جائے۔

وزیراعظم مارک کارنی نے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ”ہم فرسٹ نیشنز کی بات سننے آئے ہیں۔ قانون C-5 میں مشاورت اور شراکت داری کی شقیں واضح طور پر شامل ہیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ حکومت آئندہ موسمِ گرما میں مشاورتی اجلاسوں کا سلسلہ جاری رکھے گی، تاکہ فرسٹ نیشنز اقوام کو منصوبوں میں شراکت داری کے مواقع دیے جا سکیں۔

رائٹرز کے مطابق یہ قانون حکومت کو بعض ماحولیاتی اور مقامی ضوابط کو نظرانداز کرتے ہوئے منصوبوں کو جلدی منظور کرنے کا اختیار دیتا ہے، بشرطیکہ وہ منصوبے “قومی مفاد” کے تحت قرار دیے گئے ہوں۔

فرسٹ نیشنز کے نمائندوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے خدشات دور نہ کیے گئے تو ملک گیر احتجاج یا تحاریک جنم لے سکتی ہیں، جیسا کہ Idle No More تحریک کے دوران 2012 میں ہوا تھا۔عدالت عالیہ سے اب یہ فیصلہ متوقع ہے کہ آیا Bill C-5 آئینی اصولوں اور مقامی اقوام کے حقوق کے مطابق ہے یا نہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں