برامپٹن(نمائندہ خصوصی) برامپٹن ساؤتھ کی رکن پارلیمنٹ سونیا سدھو نے وزیر اعظم مارک کارنی کےفیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، جس کے تحت صارفین کیلئےکاربن ٹیکس کو یکم اپریل 2025 سے منسوخ کر دیا جائے گا۔
وزیر اعظم کارنی نے اپنا عہدہ سنمبھالنے کے پہلے دن ایک ہدایت نامے پر دستخط کیے، جس کے تحت وہ صارفین کا کاربن ٹیکس ختم کر رہے ہیں جو گزشتہ چند سالوں میں ایک متنازعہ معاملہ چل رہا ہے۔ یہ اقدام کینیڈین عوام کیلئےزندگی گزارنے کے اخراجات کو کم کرنے کے ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے، جبکہ ماحولیاتی تحفظ کیلئےحکومتی عزم کو بھی برقرار رکھا جائے گا۔
سونیا سدھو نے کہا، “یہ فیصلہ کینیڈین عوام کو فوری مالی ریلیف فراہم کریگا جو مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات سے پریشان تھے۔”
جبکہ کینیڈا کاربن ریبیٹ اپریل کے وسط کے بعد جاری نہیں رہیگا، حکومت ایک نئے متوسط طبقے کیلئےٹیکس میں کٹوتی متعارف کرائے گی۔ اس ٹیکس کٹوتی کے تحت انفرادی افراد جن کی سالانہ آمدنی 150,000 ڈالرسے کم ہے کیلئے ٹیکس کم کیا جائیگا۔ بیسک پرسنل اماؤنٹ (BPA) کی حد تقریباً 2,000 ڈالر تک بڑھا دی جائیگی، جس کے نتیجے میں پہلے15,000 ڈالرکی آمدنی پر کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔ اس اقدام سے تقریباً 20 ملین کینیڈین مستفید ہوں گے، اور غیرشادی شدہ افراد کو سالانہ تقریباً 300ڈالر جبکہ خاندانوں کو تقریباً 600 ڈالرکی بچت ہوگی۔
مزید برآں، حکومت توانائی کی بچت کیلئے ہیٹ پمپ اور گھریلو توانائی کی بہتری کیلئےصارفین کو مراعات فراہم کرے گی۔ان اقدامات کا مقصد کینیڈین عوام کو زیادہ مالی فائدہ پہنچانا، ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف کوششوں کو جاری رکھنا، اور G7 کی سب سے مضبوط معیشت تعمیر کرنا ہے۔
کینیڈین عوام کو ان کا آخری کاربن ریبیٹ 22 اپریل کو فراہم کیا جائیگا تاکہ وہ افراد جو ان ادائیگیوں پر انحصار کر رہے تھے، کسی بھی پریشانی سے محفوظ رہیں۔ وزیر اعظم کارنی نے اس تبدیلی کو ایسے مزید اقدامات کا حصہ قرار دیا جو کینیڈا کی معیشت کو مزید مسابقتی بنانے اور ماحولیاتی تحفظ کے عزم کو جاری رکھنے کیلئے کیے جا رہے ہیں۔
سونیا سدھو نے مزید کہا، “یہ حکومت عمل اور نتائج فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔ ہم ایک پائیدار اور مسابقتی معیشت بنانے کیلئے پرعزم ہیں جو سب کیلئےفائدہ مند ہوگا.

