وسطی فلپائن میں طوفان ’کلمیگی‘ سے تباہی — ہلاکتیں 100 سے تجاوز کر گئیں

منیلا (اے ایف پی) — وسطی فلپائن میں آنے والے طاقتور طوفان ’کلمیگی‘ سے ہلاکتوں کی تعداد 100 سے بڑھ گئی ہے، جب کہ صوبہ سیبو میں بدترین سیلاب کے بعد تباہی کی اصل صورتحال اب سامنے آ رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز آنے والے غیر معمولی اور ’’تاریخی‘‘ قرار دیے جانے والے سیلاب نے صوبے کے مختلف شہروں اور قصبوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، پانی نے گاڑیاں، کچے مکانات اور حتیٰ کہ بڑے شپنگ کنٹینرز بھی بہا دیے۔

سیبو کے ترجمان رون راموس نے بتایا کہ لیلوان کے سیلاب زدہ علاقوں سے اب تک 35 لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جس کے بعد صوبے میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 76 ہو گئی ہے۔پولیس کے مطابق قریبی جزیرے نیگروس میں بھی کم از کم 12 افراد ہلاک اور 12 لاپتا ہیں۔ موسلا دھار بارش کے باعث کینلاون آتش فشاں کا ملبہ ڈھیلا ہو گیا، جو پہاڑ سے پھسل کر گھروں پر آ گرا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سیبو کے علاوہ ہلاکتوں میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر کے 6 اہلکار بھی شامل ہیں، جو امدادی مشن کے دوران گر کر تباہ ہو گیا۔

“عینی شاہدین کے بیانات”
53 سالہ رینالڈو ورگارا نے بتایا کہ ’’صبح 4 یا 5 بجے پانی کا زور اتنا تھا کہ باہر قدم رکھنا ممکن نہیں تھا۔ ایسا کبھی نہیں دیکھا، پانی غضب ناک انداز میں بہہ رہا تھا۔‘‘قریبی علاقے تلیسائے میں دریا کے کنارے واقع ایک پوری بستی سیلاب میں بہہ گئی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق سیبو سٹی کے اردگرد 24 گھنٹوں میں 183 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو علاقے کے ماہانہ اوسط 131 ملی میٹر سے کہیں زیادہ ہے۔صوبائی گورنر پامیلا بریکواترو نے صورتحال کو ’’غیر معمولی‘‘ اور ’’تباہ کن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ متاثرین کی بحالی میں وقت لگے گا۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث طوفان زیادہ طاقتور اور خطرناک ہوتے جا رہے ہیں، اور مجموعی طور پر 8 لاکھ کے قریب افراد کو طوفان کے راستے سے ہٹایا گیا۔

“’گھوسٹ پروجیکٹس‘ پر سوالات”
طوفان کے بعد عوام میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے، کیونکہ سیلاب کنٹرول کے جعلی منصوبوں (گھوسٹ پروجیکٹس) میں بڑے پیمانے پر کرپشن کے انکشافات سامنے آئے ہیں۔گورنر بریکواترو نے کہا کہ ممکنہ طور پر کرپشن اسکینڈل اور حالیہ ’’غیر معمولی سیلاب‘‘ کے درمیان تعلق ہو سکتا ہے۔

حکومت نے سیلاب سے بچاؤ کے منصوبوں کیلئے 26 ارب 60 کروڑ فلپائنی پیسو (تقریباً 45 کروڑ ڈالر) مختص کیے تھے، ’’تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنے شدید فلیش فلڈز کیوں آئے؟‘‘محکمہ عوامی تعمیرات و شاہرات (DPWH) کے ترجمان کے مطابق محکمے کے سربراہ ونس ڈیزون سیبو پہنچ چکے ہیں تاکہ نقصان کا جائزہ لے سکیں اور ممکنہ بدعنوانی کی تحقیقات کی جا سکیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں