اسلام آباد(نامہ نگار)وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک اور شرط پر عمل درآمد کیلئے اقدامات تیز کرتے ہوئے شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کیلئےپالیسی کا مسودہ تیار کر لیا ہے۔
وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے حکام کے مطابق اس پالیسی کے تحت نئی شوگر ملوں پر پابندی اور شوگر ملیں لگانے کیلئے صوبائی حکومت کی اجازت کی شرط ختم کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ شوگر ملز کو خام چینی کی درآمد کی اجازت دی جائے گی، تاہم کرشنگ سیزن کے دوران یہ اجازت نہیں ہوگی۔
حکام کا کہنا ہے کہ شوگر ایڈوائزری بورڈ کو ختم کرنے اور شوگر سیکٹر کی ڈی ریگولیشن کیلئےقوانین میں ترامیم کی بھی تجاویز دی گئی ہیں۔ پاکستان نے آئی ایم ایف کو شوگر سیکٹر کی ڈی ریگولیشن کیلئےیقین دہانی کرائی ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال 17 جولائی کو وزیراعظم شہباز شریف نے چینی کے شعبے کو ڈی ریگولیٹ کرنے کیلئے وزیر توانائی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کی تھی، جس میں سیکریٹری صنعت و پیداوار کمیٹی کے کنوینر، وزیر خزانہ، وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور وزیر اقتصادی امور سمیت دیگر وزرا شامل تھے۔

