“وہ قتلِ عام بھلا دیا گیا جو آج بھی کشمیر کے زخموں کو تازہ کرتا ہے”

“تحریر: نُعمان علی”
اٹھہتر سال پہلے اسی ہفتے جموں کی وادیاں خون سے نہا گئی تھیں۔
1947 کے خزاں کے موسم میں، جب برصغیر کو تقسیم کر کے بھارت اور پاکستان بنایا جا رہا تھا، جموں کی خوبصورت وادی میں ایک ہولناک سانحہ رونما ہو رہا تھا۔ چند ہفتوں کے اندر لاکھوں مسلمان قتل کر دیے گئے۔

یہ قتل و غارت کسی اچانک پھیلنے والے فسادات کا نتیجہ نہیں تھی۔ اسے ہندو اور سکھ ملیشیاؤں نے اُس وقت کے کشمیر کے ڈوگرہ مہاراجہ کی افواج کی ملی بھگت سے منصوبہ بندی کے تحت انجام دیا۔ ان کا مقصد خطے کو مسلمانوں سے خالی کرانا تھا۔ جو خاندان پاکستان کی طرف ہجرت کرنے کی کوشش کر رہے تھے، اُن کے قافلے راستے میں گھات لگا کر مار دیے گئے۔ دیہات جلا دیے گئے۔

پرانے دور کے سرکاری ریکارڈز کے مطابق، ایک تجزیے کے مطابق تقریباً دو لاکھ سینتیس ہزار مسلمان ڈوگرہ افواج اور اُن کے ہندو و سکھ ساتھیوں کے ہاتھوں “نظامی طور پر ختم” کر دیے گئے۔ جب تک یہ تشدد ختم ہوا، تقریباً پانچ لاکھ مسلمان اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے تھے۔ نتیجتاً جموں کی آبادی کا نقشہ ہمیشہ کیلئےبدل گیا۔

مسلمان جو کبھی 61 فیصد اکثریت میں تھے، اقلیت میں بدل گئے۔

تاریخ دانوں نے اس سانحے کو ریاستی سرپرستی میں نسل کشی قرار دیا۔ معروف کشمیری ایڈیٹر وید بھاسن نے اسے اسی نام سے یاد کیا۔ مہاتما گاندھی نے بھی افسوس سے کہا تھا کہ “جموں کے مسلمانوں کو جموں کے ہندوؤں اور سکھوں نے مارا اور وہ جو باہر سے آئے تھے انہوں نے بھی حصہ لیا۔”

ایک کشمیری محقق کے مطابق اس قتلِ عام کا مقصد واضح تھا”اگر بھارت کشمیر کھو دے تو کم از کم جموں اسے مل جائے اور اس کیلئےیہاں ہندو اکثریت قائم کرنا ضروری تھا۔”

1948 کے اقوامِ متحدہ کے کنونشن کے مطابق نسل کشی وہ عمل ہے جو کسی قوم، نسل، یا مذہبی گروہ کو جزوی یا مکمل طور پر ختم کرنے کے ارادے سے کیا جائے۔جموں میں یہی ہوا۔ ایک مذہبی برادری (مسلمانوں) کو نشانہ بنایا گیا، اجتماعی فائرنگ کی گئی، دیہات جلا دیے گئے، عورتوں کو اجتماعی زیادتی اور اغوا کا نشانہ بنایا گیا۔

تاہم، بھارت کی آزادی کے بعد کسی حکومت نے ان واقعات کی تحقیقات نہیں کیں۔نہ کوئی کمیشن بنا، نہ کوئی یادگار، نہ کوئی سرکاری اعتراف۔

یہ قتلِ عام تاریخ اور نصاب دونوں سے مٹا دیا گیا — “تریسٹ وِد ڈیسٹنی” کے خواب تلے دفن۔

اقوامِ متحدہ نے اُس وقت مداخلت کی تھی — 1948 میں سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 47 کے ذریعے — جس میں بھارتی و پاکستانی افواج کے انخلا اور عوامی ریفرنڈم کا مطالبہ کیا گیا۔

مگر بھارت نے یہ وعدہ پورا نہیں کیا اور جموں پر اپنی گرفت مزید مضبوط کر لی، اُن لوگوں کو نواز کر جنہوں نے فرقہ واریت کو ہوا دی تھی۔

“وہ سایہ جو کبھی نہ ہٹا”
کشمیریوں کیلئےجموں کا قتلِ عام کوئی الگ واقعہ نہیں تھا، بلکہ ایک طویل سلسلے کی شروعات تھا — خوف، مٹائے جانے اور قبضے کی کہانی کا آغاز۔

آج بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر (IIOJK) دنیا کے سب سے زیادہ عسکریت زدہ علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔اہلِ کشمیر نگرانی اور محاصرے میں زندگی گزار رہے ہیں۔

2019 کے اگست میں بھارت نے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت آرٹیکل 370 ختم کر کے اس تاریخی زخم کو مزید گہرا کیا۔اس کے بعد صحافیوں کو بغیر مقدمے کے قید کیا گیا، سیاسی رہنماؤں کو خاموش کیا گیا، ہزاروں نوجوانوں کو دہشت گردی کے قوانین کے تحت جیلوں میں ڈالا گیا۔

زمین اور ڈومیسائل کے قوانین کو تبدیل کر کے غیر کشمیریوں کی آبادکاری ممکن بنائی جا رہی ہے — جس سے آبادیاتی انجینئرنگ کے خدشات پھر جنم لے چکے ہیں۔

جو کام 1947 میں بندوق سے ہوا، وہ آج قانون اور بیوروکریسی کے ذریعے جاری ہے —
یہ ایک خاموش مگر زیادہ پیچیدہ قبضہ ہے۔

“نفرت کا معمول بن جانا”
یہ ظلم خلا میں پیدا نہیں ہوا۔ یہ ہندوتوا نظریے سے پروان چڑھا —
ایک ایسی سوچ جو بھارت کو صرف ہندوؤں کا ملک سمجھتی ہے، حالانکہ تاریخ میں ایسا کبھی نہیں رہا۔

اسی تحریک کی جڑ تنظیم آر ایس ایس (RSS) جموں کے 1947 کے قتلِ عام کے وقت سرگرم تھی۔
آج اسی نظریے کی سیاسی شاخ بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) پورے بھارت میں حکمرانی کر رہی ہے۔

بھارت میں مسلم دشمنی معمول بن چکی ہے۔ٹی وی چینلز پر نفرت انگیز تقریریں عام ہیں، ہجوم مسلمانوں کو دن دہاڑے مار دیتا ہےاور “بلڈوزر انصاف” مسلمانوں کے محلوں پر چلایا جاتا ہے۔

سینئر حکومتی عہدیدار مسلمانوں کو “دییمک” قرار دیتے ہیں، اور انہیں “سمندر میں پھینکنے” کی دھمکیاں دیتے ہیں۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقریر 2023 کے غزہ تنازع کے دوران تین گنا بڑھ گئی — خاص طور پر اُن ریاستوں میں جو بی جے پی کے زیرِ اقتدار ہیں۔

یوں، ہندو قوم پرستی کی یہ پالیسی — ہندوتوا — اقتدار کے ایوانوں میں رچ بس چکی ہے۔
جہاں کبھی نفرت انگیزی پر شرم محسوس کی جاتی تھی، اب وہ عام سیاست بن چکی ہے۔
اس فضا میں، جموں 1947 کی کہانی کوئی بھولی ہوئی داستان نہیں، بلکہ ایک انتباہ ہے جسے نظر انداز کر دیا گیا۔

وہی سوچ جو کبھی مسلمانوں کے انخلا کا جواز بنی، آج اختلافِ رائے کو غداری اور پورے طبقے کو غیر مرئی بنا چکی ہے۔

“دنیا کی چنیدہ یادداشت”
بدقسمتی سے دنیا نے دکھوں کی ایک درجہ بندی بنا لی ہے۔
کچھ سانحات یاد رکھے جاتے ہیں، کچھ فراموش۔
ہم 9/11 کے مظلوموں کو یاد رکھتے ہیں — اور رکھنا بھی چاہیے —
مگر جموں میں قتل ہونے والے لاکھوں مسلمانوں کا ذکر شاذ و نادر ہوتا ہے۔

بین الاقوامی قانون کے مطابق، نسل کشی کا مطلب ہے کسی گروہ کو جزوی یا مکمل طور پر ختم کرنے کا ارادہ۔
اس لحاظ سے، جموں میں جو کچھ ہوا، وہ نسل کشی تھااور جو آج کشمیریوں پر ہو رہا ہے — نگرانی، آبادیاتی تبدیلی، اور اجتماعی سزا — وہ بھی اخلاقی و قانونی طور پر اسی داغ سے آلودہ ہے۔

یہ مضمون بھارت کی خودمختاری پر سوال نہیں اٹھاتا،
بلکہ اس کی انسانیت کو للکارتا ہے۔
ایک ایسا ملک جو خود کو عالمی طاقت کے طور پر منوانا چاہتا ہے،
اگر اپنے ماضی کے زخموں اور موجودہ مظالم کا سامنا نہیں کرتا —
تو یہ ایک اخلاقی ناکامی ہے، تاریخی پیمانے پر۔

“یاد رکھنا ہی مزاحمت ہے”
ہر سال 6 نومبر کو کشمیری یومِ شہدائے جموں مناتے ہیں —
یہ دن خاموش مزاحمت کا دن ہے۔
وہ انتقام نہیں چاہتے، صرف یاد چاہتے ہیں۔
وہ اپنے مردوں کیلئےروتے ہیں — اور اُن زندہ لوگوں کیلئےبھی جو اب بھی انصاف کے منتظر ہیں۔

ان کے دکھ کو تسلیم کرنا کسی فریق کا ساتھ دینا نہیں —
یہ انسانیت کے آفاقی اصولوں کا ساتھ دینا ہے۔

کشمیری آج بھی 27 اکتوبر کو سوگ کے طور پر مناتے ہیں —
اپنے والدین اور دادا دادی کیلئے اور امید کے ساتھ کہ ایسی ہولناکی پھر کبھی نہ دہرائی جائے۔

جموں 1947 کی یاد کو مٹنے نہیں دینا چاہیے۔
اور نہ ہی آج کے خاموش قبضے کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔
کیونکہ جب دنیا ظلم پر خاموش ہو جاتی ہے،
تو وہ اگلی تباہی کے بیج خود بو دیتی ہے۔

اگر دنیا نیویارک میں 9/11 کے ہزاروں مقتولوں کیلئے سوگ منا سکتی ہے،تو اسے جموں میں مارے گئے لاکھوں انسانوں کو یاد رکھنے کا اخلاقی حوصلہ بھی پیدا کرنا چاہیے —اور اُن نسلوں کو بھی، جو اب بھی اُس زخم کے بوجھ تلے جی رہی ہیں۔

صرف جب ہم سچائی کے ساتھ یاد رکھیں گے،تب ہی دنیا واقعی شفا پانا شروع کریگی۔

اپنا تبصرہ لکھیں