لندن(نمائندہ خصوصی) برطانوی وزیراعظم سر کیئر سٹارمر نے ویلفیئر نظام میں اصلاحات سے متعلق پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کی حکومت فلاحی نظام میں تبدیلیوں کے حوالے سے نرمی برتنے پر غور کر سکتی ہے، تاہم ان کا واضح کہنا تھا کہ یہ تمام اصلاحات “انصاف کی لیبر اقدار” کے مطابق ہونی چاہئیں۔
سٹارمر نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا”سماجی تحفظ کے بارے میں، میں تسلیم کرتا ہوں کہ ہمارے فلاحی نظام میں اصلاحات کی فوری ضرورت پر پورے ایوان میں اتفاق رائے ہے، کیونکہ برطانوی عوام تحفظ اور وقار کے مستحق ہیں جب وہ کام کرنے سے قاصر ہوں، اور جب وہ کر سکتے ہیں تو کام میں تعاون کریں۔”
انہوں نے سابقہ کنزرویٹو حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظام “ٹوٹا ہوا” ہے اور روزانہ عوام کو مایوس کر رہا ہے۔”اس وقت وہ قدامت پسندوں کے بنائے ہوئے ٹوٹے ہوئے نظام کی وجہ سے ہر روز ناکام ہو رہے ہیں، جس میں کوئی بھی کامیابی حاصل نہیں کر پا رہا ہے۔”
سٹارمر نے اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ تمام پارلیمانی اراکین کی اس معاملے میں سنجیدگی کو تسلیم کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایک اجتماعی کوشش سے اصلاحات کا عمل شروع ہو”میں جانتا ہوں کہ پورے گھر کے ساتھی اسے ٹھیک کرنا شروع کرنے کیلئے بے تاب ہیں اور میں بھی، اور یہ کہ تمام ساتھی یہ حق حاصل کرنا چاہتے ہیں، اور میں بھی۔”
انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ان اصلاحات پر بات چیت کا عمل جاری رہے گا اور آئندہ منگل سے اس پر عملی اقدامات کا آغاز متوقع ہے”یہ بات چیت آنے والے دنوں میں جاری رہے گی، لہذا ہم منگل کو مل کر تبدیلی کرنا شروع کر سکتے ہیں”۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب برطانیہ میں ویلفیئر پر مبنی قوانین پر نظرثانی کی آوازیں بڑھتی جا رہی ہیں، اور لیبر پارٹی پر دباؤ ہے کہ وہ فلاحی نظام کو مؤثر، منصفانہ اور جدید خطوط پر استوار کرے۔

