وینزویلا میں فوجی کارروائی کیلئےفیصلہ کر چکا ہوں:ٹرمپ کا اعلان

امریکی صدر نے کیریبین میں فوجی تعیناتیاں بڑھا دی، آپریشن ’سدرن اسپئیر‘ فعال

واشنگٹن(نمائندہ خصوصی)صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ انہوں نے وینزویلا میں ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے فیصلہ کر لیا ہے، تاہم انہوں نے اس کا حتمی طریقہ کار ظاہر نہیں کیا۔ یہ اعلان امریکی فوج کی بڑھتی ہوئی موجودگی اور اعلیٰ سطح کی بریفنگز کے بعد سامنے آیا ہے۔

امریکی سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کیئن نے صدر کو ممکنہ آپشنز کے بارے میں بریف کیا۔قومی سلامتی کی ٹیم، جس میں سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو بھی شامل تھے، نے جمعرات کو صدر سے سیچویشن روم میں ملاقات کی۔

صدر کو مختلف آپشنز پیش کیے گئے، جن میں،فوجی یا حکومتی تنصیبات پر فضائی حملے،منشیات کی اسمگلنگ کے راستوں پر کارروائی،مادورو کو براہ راست اقتدار سے ہٹانے کی کوشش،امریکی فوج کی تعیناتیاں،خطے میں تقریباً 15 ہزار فوجی اہلکار اور ایک درجن سے زائد جنگی جہاز تعینات کیے گئے ہیں۔

اہم تعیناتیاں میں ایئرکرافٹ کیریئر یو ایس ایس جیرالڈ آر فولڈ،کرُوزر، ڈیسٹروئرز، ایئر اور میزائل دفاعی کمانڈ شپ، ایمفیبیئن حملہ آور جہاز، سب میرین،10 ایف-35 فائٹر جیٹس پورٹو ریکو سے بھیجے گئے شامل ہیں.پینٹاگون نے اس آپریشن کو ’آپریشن سدرن اسپئیر‘ کا نام دیا۔

مادورو کو ہٹانے سے امریکی صدر کو سیاسی اور اقتصادی فوائد مل سکتے ہیں، بشمول منتخب رہنما کو اقتدار میں لانا، منشیات اور غیر قانونی مہاجرین کے بہاؤ میں کمی،تیل اور دیگر وسائل میں فوائد شامل ہیں.

تاہم، خطرات میں وینزویلا کی بغاوت کیلئےتیار فوج اور اپوزیشن عناصر کا غیر یقینی ردعمل،امریکی عوام میں غیر مطلوبہ سیاسی دباؤ،خطے میں طویل مدتی تنازعات کا خطرہ شامل ہیں.مادورو نے خبردار کیا ہے کہ امریکی فوجی مداخلت غزہ، افغانستان یا ویتنام جیسی صورتحال پیدا کر سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق، یہ سطح کی فوجی تیاری غیر معمولی اور تاریخی ہے، اور اس میں امریکی صدر کو انتہائی احتیاط کے ساتھ فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ صدر ٹرمپ کی وابستگی، عوامی حمایت، اور خطے میں فوجی وسائل کی دستیابی مستقبل کے اقدامات کی کامیابی یا ناکامی میں اہم کردار ادا کریں گے۔