ٹرمپ انتظامیہ غزہ میں فوجی اڈہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے: برطانوی اخبار

لندن ( گارڈین) برطانوی اخبار گارڈین نے رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی انتظامیہ غزہ میں فوجی اڈہ قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ فوجی اڈہ پانچ ہزار فوجیوں پر مشتمل ہوگا اور تین سو پچاس ایکڑ سے زیادہ رقبے پر تعمیر کیا جائے گا۔ یہ اڈہ مستقبل کی بین الاقوامی امن قائم کرنے والی فورس کے لیے آپریٹنگ بیس کے طور پر استعمال ہوگا۔

دستاویزات کے مطابق یہ اڈہ مرحلہ وار تعمیر ہوگا اور آخرکار ایک ہزار چار سو میٹر رقبے پر محیط ہوگا۔ اڈے کے گرد چھوٹے ہتھیاروں کی رینج، بیس کے لیے بنکرز، چھبیس ٹریلر پر نصب بکتر بند واچ ٹاورز اور فوجی سامان کے گودام قائم ہوں گے، اور پورے اڈے کو خاردار تاروں سے محفوظ بنایا جائے گا۔

اخبار کے مطابق یہ قلعہ نما تنصیب جنوبی غزہ کے ایک بنجر میدان میں تعمیر کی جائے گی، جہاں نمکین جھاڑیاں اور سفید جھاڑیاں موجود ہیں اور زمین اسرائیلی بمباری کے ملبے سے بھری ہوئی ہے۔رپورٹ میں ایک ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ چند بین الاقوامی تعمیراتی کمپنیوں کو، جو جنگی علاقوں میں کام کا تجربہ رکھتی ہیں، پہلے ہی اس جگہ کا دورہ کروایا جا چکا ہے۔

اس مقام کو مستقبل کی بین الاقوامی امن قائم کرنے والی فورس کے لیے فوجی بیس کے طور پر تصور کیا گیا ہے، جو مختلف ممالک کے فوجیوں پر مشتمل ایک کثیرالقومی فورس ہوگی۔ یہ فورس نئی قائم کردہ امن بورڈ کے زیر انتظام ہوگی، جس کے چیئرمین ڈونلڈ ٹرمپ ہیں اور جزوی قیادت میں ان کے داماد جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب غزہ کے لیے بین الاقوامی سیکیورٹی فورس کے کمانڈر میجر جنرل جیسپر جیفرز نے بتایا کہ پانچ ممالک نے اس فورس کے لیے فوجی دستے دینے کی رضا مندی ظاہر کی ہے۔ ان ممالک میں انڈونیشیا، مراکش، قازقستان، کوسوو اور البانیہ شامل ہیں، جبکہ انڈونیشیا نے ڈپٹی کمانڈر کی پوزیشن بھی قبول کی ہے۔ مصر اور اردن پولیس کو تربیت فراہم کریں گے۔

امن بورڈ کے نمائندے نیکولائے ملاڈینوف نے بتایا کہ نئی عبوری فلسطینی پولیس فورس کے لیے دو ہزار فلسطینیوں نے درخواستیں دی ہیں۔صدر ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ یہ فوجی دستے لڑائی کے لیے نہیں بھیجے جائیں گے بلکہ امن قائم کرنے کے لیے تعینات ہوں گے۔