واشنگٹن (رائٹرز)امریکا آنے والے غیر ملکی مسافروں پر عائد کی جانے والی 250 ڈالر کی نئی ’’ویزا انٹیگریٹی فیس‘‘ نے پہلے ہی دباؤ کا شکار سیاحتی صنعت میں مزید کمی کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسیوں اور کئی ممالک کے ساتھ کشیدہ تعلقات کے باعث امریکا آنے والے سیاحوں کی تعداد میں کمی پہلے ہی رپورٹ کی جا رہی ہے۔
امریکی حکومتی اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2025 میں امریکا کا سفر کرنے والے غیر ملکی سیاحوں کی تعداد سال بہ سال 3.1 فیصد کم ہو کر ایک کروڑ 92 لاکھ رہ گئی۔ یہ رواں سال کا پانچواں مہینہ ہے جس میں سیاحت میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
یکم اکتوبر سے نافذ العمل ہونے والی نئی فیس ان ممالک کے مسافروں پر لاگو ہوگی جو ’’ویزا ویور پروگرام‘‘ کا حصہ نہیں ہیں، جن میں میکسیکو، بھارت، برازیل، ارجنٹینا اور چین شامل ہیں۔ اس اضافی فیس کے بعد امریکی ویزے کی قیمت 442 ڈالر تک پہنچ جائے گی، جو دنیا میں سب سے مہنگے ویزوں میں شمار ہوگی۔
امریکی ٹریول ایسوسی ایشن اور عالمی ٹریول ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے نتیجے میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد مزید متاثر ہو گی اور امریکا کی سیاحتی آمدنی 2024 کے 181 ارب ڈالر سے گھٹ کر 2025 میں 169 ارب ڈالر تک رہنے کا امکان ہے۔
آکسفورڈ اکنامکس نے گزشتہ سال اندازہ لگایا تھا کہ 2025 میں سیاحوں کی آمد میں 10 فیصد اضافہ ہوگا، تاہم موجودہ اعداد و شمار اس کے برعکس 3 فیصد کمی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
سب سے زیادہ اثر وسطی اور جنوبی امریکا کے ممالک پر پڑنے کا خدشہ ہے جہاں سے سفر میں حالیہ مہینوں میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ چین اور بھارت سے آنے والے مسافروں کی تعداد میں بھی واضح کمی رپورٹ ہو رہی ہے، خاص طور پر بھارتی طلبہ کی آمد میں 18 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق نئی فیس کے ساتھ ساتھ امریکی انتظامیہ کے 15 ہزار ڈالر تک کے سیکیورٹی بانڈز اور ویزوں کی مدت محدود کرنے جیسے اقدامات بھی سیاحوں کیلئے بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں۔دوسری جانب امریکی مسافروں کو یہ خدشہ بھی ہے کہ غیر ملکی ممالک اس کے جواب میں جوابی فیس عائد کر سکتے ہیں، جس سے عالمی سفر مزید مہنگا اور پیچیدہ ہو جائے گا۔

