ٹرمپ اور ترک صدر رجب طیب اردوان کی ملاقات، ایران-اسرائیل جنگ بندی کا خیرمقدم

دی ہیگ، نیدرلینڈز(اناطولو ایجنسی (AA)، وائٹ ہاؤس میڈیا، ترک ایوانِ صدر)نیدرلینڈ کے شہر دی ہیگ میں جاری نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ایک اہم دوطرفہ ملاقات ہوئی، جس میں ایران-اسرائیل جنگ بندی، نیٹو کی ڈیٹرنٹ صلاحیت، اور دوطرفہ تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایران-اسرائیل جنگ بندی کا خیرمقدم
ملاقات کے دوران صدر اردوان نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا”ہم خطے میں کشیدگی میں کمی، سفارتی عمل کے احیاء اور انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے کی گئی تمام کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔ جنگ بندی کا نفاذ خطے میں استحکام کیلئےایک اہم قدم ہے۔”

صدر اردوان نے اس بات پر زور دیا کہ ترکی ہمیشہ مسائل کے پرامن حل اور بات چیت کے ذریعے تنازعات کے خاتمے کا حامی رہا ہے۔

دفاعی تعاون اور نیٹو کی حکمتِ عملی پر زور
ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے نیٹو کی ڈیٹرنٹ اور دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ امریکا اور ترکی کے مابین دفاعی تعاون کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے.توانائی، سرمایہ کاری اور مشترکہ دفاعی منصوبوں میں وسیع گنجائش موجود ہے.مشرقِ وسطیٰ اور یورپی-اٹلانٹک خطے کو درپیش اسٹریٹیجک خطرات کے حوالے سے مشترکہ حکمت عملی اپنائی جانی چاہیے.

نیٹو اجلاس میں ترک وفد کی شرکت
ترک صدر رجب طیب اردوان منگل کے روز دی ہیگ پہنچے، جہاں ایمسٹرڈیم کے اسخپول ایئرپورٹ پر انہیں نیٹو اور نیدرلینڈز کے اعلیٰ حکام نے خوش آمدید کہا۔ ترک وفد میں امینے اردوان (خاتون اول)،وزیر خارجہ حاقان فدان،وزیر دفاع یشار گولر،نیشنل انٹیلی جنس چیف ابراہیم کالن،صدارتی مشیران: فخرالدین آلتن اور عاقف چاگتائے کلیچ جیسی اہم شخصیات شامل ہیں.

صدر اردوان کی نیٹو سمٹ کے دوران متعدد عالمی رہنماؤں سے دو طرفہ ملاقاتیں متوقع ہیں، جن میں علاقائی سلامتی، مشرق وسطیٰ کی صورتحال، یوکرین بحران، اور نیٹو توسیعی پالیسیوں پر بات چیت ہوگی۔

اپنا تبصرہ لکھیں