کیلیفورنیا(نمائندہ خصوصی)گرین کارڈ انٹرویو کے دوران گرفتاری، شوہر کی ٹرمپ حمایت پر ندامت، خاتون نے 25 سال امریکہ میں محنت اور ٹیکس ادائیگی کے باوجود ملک بدری کا سامنا کیا۔
امریکہ میں امیگریشن حکام نے ایک کینیڈین نژاد خاتون سنتھیا اولیویرا کو گرفتار کر لیا، جس کے شوہر نے ماضی میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کی حمایت کی تھی۔ 45 سالہ سنتھیا، تین بچوں کی ماں، گرین کارڈ کے حصول کیلئے انٹرویو دینے چیٹس ورتھ، کیلیفورنیا کے ایک امیگریشن دفتر پہنچی تھیں جہاں امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے اہلکاروں نے انہیں ہتھکڑیاں لگا کر حراست میں لے لیا، جب کہ ان کے شوہر فرانسسکو اولیویرا دفتر کے باہر انتظار کر رہے تھے۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق، سنتھیا اولیویرا کو 13 جون 2025 کو اس جرم میں گرفتار کیا گیا کہ وہ غیر قانونی طور پر امریکہ میں مقیم تھیں، حالانکہ انہیں 1999 میں پہلے ہی ملک بدری کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ حکام کے مطابق، بعدازاں انہوں نے میکسیکو کے راستے غیر قانونی طور پر دوبارہ امریکہ میں داخل ہونے کا جرم کیا، جس پر کارروائی ناگزیر تھی۔
سنتھیا کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ 25 برسوں سے لاس اینجلس میں رہائش پذیر تھیں، مسلسل محنت کرتی رہیں، اور ٹیکس ادا کرتی رہیں۔ انہیں گزشتہ سال ایک ورک پرمٹ جاری کیا گیا تھا، جب امریکہ میں جو بائیڈن کی حکومت تھی۔ لیکن جون میں، اپنی مستقل رہائش (گرین کارڈ) کے لیے انٹرویو دینے کے دوران انہیں اچانک گرفتار کر لیا گیا۔
ان کے شوہر فرانسسکو اولیویرا، جو امریکی شہری ہیں اور جنہوں نے 2016 میں ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا، کا کہنا ہے کہ وہ ٹرمپ کی مجرموں کی ملک بدری کی پالیسی کے حامی تھے، لیکن اب انہیں اپنے موقف پر افسوس ہے۔ انہوں نے کہا، “ہم نے سوچا تھا کہ یہ قانون صرف خطرناک لوگوں کے خلاف ہوگا، نہ کہ ہمارے جیسے محنتی خاندانوں پر لاگو ہوگا۔”
سنتھیا اولیویرا نے بتایا کہ وہ اب کینیڈا واپس آ کر مسی ساگا، اونٹاریو میں اپنے کزن کے ساتھ رہنے کا ارادہ رکھتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ حکومتِ کینیڈا ان کی واپسی میں مدد کرے۔ تاہم، گلوبل افیئرز کینیڈا نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ اس کیس میں مداخلت نہیں کر سکتا۔
امریکہ میں امیگریشن پالیسیوں کی سختی کے باعث ایک اور خاندان ٹوٹنے کے دہانے پر ہے۔ سنتھیا کا معاملہ نہ صرف انسانی ہمدردی کے زاویے سے توجہ طلب ہے بلکہ یہ بھی سوال اٹھاتا ہے کہ کیا امیگریشن پالیسیوں میں اصلاح کی ضرورت وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکی ہے؟

