واشنگٹن (نمائندہ خصوصی)سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کے سابق صدر دمتری میدویدیف کی دھمکی آمیز ٹویٹ کے بعد جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والی دو آبدوزیں “موزوں علاقوں” میں تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے یوکرین جنگ کے تناظر میں روس اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں شدید اضافہ ہو گیا ہے۔
جمعہ کے روز ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے روسی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دمتری میدویدیف کے “انتہائی اشتعال انگیز بیانات” کے بعد یہ اقدام اٹھایا ہے۔ ٹرمپ نے لکھا”میں نے دو جوہری آبدوزوں کو موزوں علاقوں میں متعین کرنے کا حکم دیا ہے صرف اس صورت میں کہ یہ احمقانہ اور اشتعال انگیز بیانات الفاظ سے آگے بڑھ کر عمل میں ڈھل جائیں۔ الفاظ اہم ہوتے ہیں اور اکثر غیر ارادی نتائج کا باعث بنتے ہیں، مجھے امید ہے کہ اس بار ایسا نہیں ہوگا۔”
ٹرمپ نے واضح نہیں کیا کہ آیا یہ آبدوزیں صرف جوہری توانائی سے چلنے والی ہیں یا ان پر جوہری ہتھیار بھی موجود ہیں۔اس سے قبل دمتری میدویدیف جو روسی صدر ولادیمیر پوتن کی واپسی کے بعد سے سیاسی طور پر نسبتاً غیر فعال رہے ہیں نے سوشل میڈیا پر ایک شدید ردعمل دیا تھا۔
ان کے مطابق ٹرمپ کا روس کو دی گئی “50 دن کی مہلت کو 10 دنوں تک محدود کرنا” ایک واضح دھمکی اور جنگ کی طرف قدم ہے۔ میدویدیف نے لکھا”ٹرمپ روس کے ساتھ الٹی میٹم کھیل کھیل رہا ہےپہلے 50 دن اب صرف 10۔ اسے یاد رکھنا چاہیے کہ
1۔ روس نہ اسرائیل ہے اور نہ ہی ایران۔
2۔ ہر نیا الٹی میٹم جنگ کی طرف ایک قدم ہے۔ یہ جنگ روس اور یوکرین کے درمیان نہیں بلکہ امریکہ اور روس کے درمیان ہوگی۔’سلیپی جو‘ کے راستے پر مت چلو!”
یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور نیٹو پہلے ہی یوکرین میں روس کے حملوں کے خلاف اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔ دوسری جانب، میدویدیف نے مغربی دنیا کے خلاف اشتعال انگیز اور غیر سفارتی زبان میں بیانات دینے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے جوہری آبدوزوں کی تعیناتی کا یہ اعلان عالمی برادری کیلئےتشویش کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ اس اقدام سے یوکرین جنگ کے ساتھ ساتھ امریکہ اور روس کے درمیان براہ راست تصادم کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ماہرین اس تازہ پیشرفت کو بین الاقوامی امن و سلامتی کیلئےایک سنجیدہ چیلنج قرار دے رہے ہیں۔

