غزہ آج کھنڈر کا منظر پیش کر رہا ہے۔ اکتوبر 2023 سے اب تک 70 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ بستیاں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں، اسپتال زخمیوں سے بھرے ہیں مگر بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں، خوراک اور دواؤں کی کمی سنگین شکل اختیار کر چکی ہے اور انسانی بحران ہر دن گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیس نکاتی امن منصوبہ پیش کیا ہے جسے وہ غزہ کی دو سالہ جنگ ختم کرنے کا حل قرار دیتے ہیں۔ اس اعلان نے ایک طرف کچھ امید جگائی ہے تو دوسری طرف شدید شکوک و شبہات بھی پیدا کیے ہیں۔
ٹرمپ کے منصوبے کے اعلان کے بعد پہلی بار امید کی ایک کرن دکھائی دی ہے۔ اسرائیل اور حماس نے مصر میں بالواسطہ مذاکرات شروع کیے ہیں تاکہ اس منصوبے پر بات آگے بڑھ سکے۔ یہ بات چیت اگرچہ نازک اور غیر یقینی ہے مگر مبصرین کے مطابق یہی وہ موقع ہے جس سے کسی سیاسی عمل کی شروعات ہو سکتی ہے۔ مقصد یہ نہیں کہ تمام مسائل ایک ہی نشست میں ختم ہو جائیں بلکہ یہ ہے کہ مرحلہ وار جنگ بندی، انسانی امداد اور حکومتی ڈھانچے پر ابتدائی قدم اٹھایا جا سکے۔ حماس نے مشروط طور پر اس منصوبے کو ماننے کا عندیہ دیا ہے۔ اس نے یرغمالیوں کی رہائی، ایک غیر سیاسی فلسطینی انتظامیہ کی حمایت اور مزید مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے، البتہ فوری غیر مسلح ہونے اور مکمل طور پر اثر و رسوخ چھوڑنے سے انکار کیا ہے۔ یہ جواب اگرچہ محدود ہے مگر اس بات کا ثبوت ہے کہ دروازہ بالکل بند نہیں ہوا۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ زمینی صورتحال اب بھی بہت بھیانک ہے۔ اسرائیلی فوج کے حملے روزانہ بے گناہ شہریوں کی جان لے رہے ہیں۔ درجنوں انسانی ہمدردی کے کارکن، جو صرف خوراک اور دوائیں پہنچانے کے لیے غزہ میں موجود تھے، حراست میں لے لیے گئے یا روک دیے گئے ہیں۔ امدادی قافلے رکے ہوئے ہیں، اسپتال بنیادی علاج سے محروم ہیں اور عام لوگ لگاتار بمباری کا نشانہ بن رہے ہیں۔ یہ رویہ ٹرمپ کے منصوبے کو بے وقعت کرتا ہے اور اسرائیل کی نیت پر سوال کھڑا کرتا ہے۔
خود ٹرمپ کا رویہ بھی متضاد ہے۔ منصوبہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے سخت الٹی میٹم اور ڈیڈ لائنز دیں اور یہ تک کہا کہ اگر حماس نہ مانی تو اس کا “کلی صفایا” کر دیا جائے گا۔ نیتن یاہو نے بظاہر منصوبے کی حمایت کی لیکن وہ بار بار کہتے ہیں کہ اسرائیل کی بنیادی شرط، یعنی حماس کی غیر مسلحی، کسی صورت نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔ ان کے سخت گیر اتحادی کسی ایسے معاہدے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں جس میں حماس کو ذرا سا بھی کردار باقی رہے۔ یہی ضد اسرائیلی حکومت کو بھی کمزور کر رہی ہے اور امن کے راستے کو تنگ کر رہی ہے۔
پھر بھی امکانات باقی ہیں۔ قاہرہ میں جاری بات چیت اور حماس کا جزوی جواب اس بات کا ثبوت ہیں کہ مکالمے کی گنجائش ابھی باقی ہے۔ ٹرمپ خود کو اس سارے عمل کا لازمی کردار سمجھتے ہیں لیکن صرف دباؤ ڈالنے سے امن قائم نہیں ہوتا۔ اگر یہ عمل ڈکٹیشن پر مبنی ہوا تو جلد ہی ناکام ہو جائے گا۔ فلسطینی ، جو دہائیوں کی جدوجہد اور مزاحمت سے گزرے ہیں ، مسلط کیے گئے فیصلے قبول نہیں کرتے۔ کوئی بھی پائیدار حل آہستہ آہستہ بنتا ہے، زبردستی تھوپا نہیں جا سکتا۔
تاریخ بھی یہی سبق دیتی ہے۔ زبردستی کے معاہدے دیرپا نہیں ہوتے۔ ویتنام اور افغانستان اس کی واضح مثال ہیں جہاں بیرونی دباؤ ختم ہوتے ہی سب کچھ ٹوٹ گیا۔ اس کے برعکس شمالی آئرلینڈ کا گڈ فرائیڈے معاہدہ اور جنوبی افریقہ کی پرامن تبدیلی اسی وقت ممکن ہوئی جب سب کو ساتھ بٹھایا گیا اور غیر جانب دار ثالثی کی گئی۔ یہی آج غزہ کے لیے بھی ضروری ہے: ایسا عمل جو مکالمے، اعتماد اور مشترکہ انسانیت پر کھڑا ہو۔
اگر کوئی پیش رفت ہونی ہے تو سب سے پہلے انسانی ضروریات کو ترجیح دینا ہوگی۔ جنگ بندی اس قدر پائیدار ہو کہ خوراک اور دوائیں متاثرین تک پہنچ سکیں۔ یرغمالیوں کے تبادلے کے لیے مضبوط اور عملی معاہدے ہونے چاہئیں۔ ثالثی صرف امریکہ تک محدود نہ رہے بلکہ غیر جانب دار ممالک بھی شامل ہوں تاکہ اعتماد قائم ہو۔ فلسطینی قیادت کا ڈھانچہ سب فریقین کی شمولیت سے آہستہ آہستہ بنے۔ اور غیر مسلحی جیسے حساس معاملات کو بھی مرحلہ وار اور ضمانتوں کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔
فلسطینی عوام نے پہلے ہی ناقابلِ تصور قربانیاں دی ہیں۔ اب ان کی زندگی اور بقا کسی بھی فیصلے کا مرکز ہونی چاہیے، نہ کہ رہنماؤں کی انا۔ قاہرہ میں جاری مذاکرات ایک نازک موقع ہیں کہ جنگ سے مکالمے کی طرف قدم بڑھایا جا سکے۔ لیکن اگر اسرائیلی جارحیت جاری رہی یا ٹرمپ اور نیتن یاہو نے اپنی ڈکٹیشن پر اصرار کیا تو یہ موقع بھی ضائع ہو جائے گا۔
دنیا ان وعدوں سے تنگ آ چکی ہے جو صرف کاغذ پر رہ جاتے ہیں۔ اب وقت ہے عمل کا ، بھوکوں کے لیے خوراک، شہریوں کے لیے تحفظ، یرغمالیوں کے لیے آزادی اور امن کی حقیقی بنیاد رکھنے کا۔ تاریخ ٹرمپ کو اس بات سے نہیں پرکھے گی کہ وہ کتنی جنگیں ختم کرنے کے دعوے کرتے ہیں۔ دنیا انہیں اس بات پر پرکھے گی کہ آیا ان کا منصوبہ غزہ کے عوام کو سکون اور عزت کے ساتھ جینے کا موقع دے سکا یا نہیں۔

