امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حال ہی میں پیش کیا گیا 20 نکاتی غزہ امن منصوبہ ایک ایسی جنگ میں نئی ہنگامی کیفیت لے آیا ہے جو برسوں سے جاری ہے اور جس کا سب سے بڑا بوجھ عام فلسطینیوں پر پڑ رہا ہے۔ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ بھرپور تشہیر کے ساتھ اعلان کردہ اس منصوبے میں فوری جنگ بندی، قیدیوں اور یرغمالیوں کے تبادلے، مرحلہ وار اسرائیلی انخلا، حماس کے عسکری ڈھانچے کے خاتمے اور ایک عبوری بین الاقوامی نگرانی میں حکومت کے قیام کی تجاویز شامل ہیں۔ بظاہر یہ منصوبہ جامع دکھائی دیتا ہے، لیکن جب اسے قریب سے پرکھا جائے تو اس میں جہاں خوبیاں ہیں، وہیں خامیاں بھی بہت ہیں۔ اس میں ایک فوری خوبی یہ ضرور ہے کہ اگر اسرائیل ہٹ دھرمی چھوڑ کر فوری جنگ بندی پر آمادہ ہو جائے تو فلسطینیوں کو سانس لینے کا موقع مل سکتا ہے؛ انہیں برسوں سے چلنے والی تنگی اور بیچارگی سے کچھ راحت ملے گی۔ لیکن اگر اس پر زیادہ حقیقت پسندی اور کھلی بات نہ کی گئی تو پائیدار امن کے امکانات محدود رہیں گے۔
یہ منصوبہ راتوں رات نہیں بنا بلکہ اس پر یقیناً مہینوں مشاورت ہوئی، کچھ مسلم ممالک سمیت مختلف فریق بھی شامل رہے۔ مگر اصل کمزوری اس کے نفاذ میں ہے۔ یرغمالیوں کو 72 گھنٹوں میں رہا کرنے اور اس کے بدلے سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کی آزادی کی شرط رکھی گئی ہے۔ اسرائیلی فوج کا انخلا غیر مسلح کاری کے اقدامات سے مشروط ہے۔ حماس کو حکمرانی سے مکمل طور پر الگ کر دیا گیا ہے اور غزہ پر عارضی طور پر ایک تکنیکی بورڈ حکمرانی کرے گا جس میں غیر ملکی ماہرین اور چند فلسطینی نمائندے شامل ہوں گے۔ یہ سب کاغذ پر فیصلہ کن لگتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ سرنگوں کے خاتمے کی تصدیق کون کرے گا؟ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کون کرے گا؟ اور کیا اسرائیل واقعی مکمل انخلا کرے گا یا صرف نام بدل کر قبضہ برقرار رکھے گا؟ سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ غزہ میں عملی اختیار رکھنے والی قوت یعنی حماس کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ متاثرہ فریق کو نظرانداز کر کے الٹی میٹم دینا سفارت کاری کم اور مسلط کرنا زیادہ ہے۔
اہم مسئلہ یہ ہے کہ حماس کیلئےغیر ملکی نگرانی میں ہتھیار ڈالنا سیاسی خودکشی کے مترادف ہے۔ کوئی بھی مزاحمتی تحریک اپنی مرضی سے ختم نہیں ہوتی، خاص طور پر جب اس کے حامی جنگ کی تباہ کاریوں سے شدید متاثر ہوں اور خود دفاع کے بیانیے سے جڑے ہوں۔ دوسری طرف اسرائیل کو بھی اعتماد کے شدید بحران کا سامنا ہے۔ فلسطینی دہائیوں سے ٹوٹے ہوئے وعدے اور ادھورے معاہدے سہتے آئے ہیں۔ ایسے میں بغیر قابلِ بھروسہ ضمانت کے وہ کیسے مانیں گے کہ یہ منصوبہ مختلف ہے؟ خود نیتن یاہو پہلے ہی عندیہ دے چکے ہیں کہ اسرائیلی افواج معاہدے کے باوجود غزہ کے اہم حصوں میں رہیں گی، جس سے سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ خودمختاری کی بحالی ہے یا پرانے قبضے کو نئے نام سے قائم رکھنا؟
لیکن یہ تنازعہ محض “دونوں فریقوں کے سمجھوتے” کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ ایک غیر متوازن جنگ ہے۔ اسرائیل کے پاس بھرپور فوجی طاقت ہے، جبکہ فلسطینی ستر ہزار سے زائد جانیں گنوا چکے ہیں، ان کی بستیاں اجاڑ دی گئی ہیں، خاندان بے گھر ہو گئے ہیں اور لاکھوں لوگ کھلے آسمان تلے کچی آبادیوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق غزہ کا 80 فیصد سے زیادہ ڈھانچہ تباہ یا شدید متاثر ہو چکا ہے، اور لوگ خوراک، پانی اور صحت جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ ایسے حالات میں یہ کہنا کہ فلسطینی اپنی بقا کے لیے بھی سودے بازی کریں سراسر ناانصافی ہے۔ اگر ٹرمپ اور عالمی برادری واقعی امن چاہتے ہیں تو انہیں مظلوم اور ظالم کو ایک برابر کھڑا کرنے کے بجائے اسرائیلی اندھا دھند حملوں کی کھل کر مذمت کرنا ہوگی۔
اگر یہ رکاوٹیں کسی طرح عبور بھی کر لی جائیں تو جواز کا مسئلہ پھر بھی باقی ہے۔ غیر ملکی نگرانی میں قائم تکنوکریٹ حکومت کو لوگ مقامی خود حکمرانی کے بجائے مسلط شدہ قبضہ سمجھیں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگ زدہ آبادی بیرونی حلوں کو آسانی سے قبول نہیں کرتی، چاہے ان کے ساتھ امداد کے وعدے ہوں۔ اگر عام غزہ کے لوگ محسوس کریں کہ ان کی آواز دبائی جا رہی ہے تو بغاوت کا خطرہ قائم رہے گا۔ اسی طرح خطے میں عرب ممالک اور عوامی رائے بھی اس منصوبے کو تعصب یا فلسطینی امنگوں کو نظرانداز کرنے کے زاویے سے دیکھے گی۔ فلسطینی اتھارٹی کو کمزور کرنا اور حماس کو صرف پابندی لگا کر ختم کرنے کی کوشش کرنا سیاسی خلا کو مزید وسیع کرے گا۔
ماضی کے تجربات بھی یہی بتاتے ہیں کہ بڑے اور ہمہ گیر منصوبے کم ہی کامیاب ہوئے۔ جب بھی جنگ بندی قائم رہی، وہ محدود اور تدریجی اقدامات کے ذریعے ممکن ہوئی۔ 2014 اور 2018 میں مصر اور قطر نے قیدیوں کے تبادلے، امدادی راہداریوں کا کھلنا اور طبی انخلا کے وقفے جیسے چھوٹے اقدامات کے ذریعے جنگ بندی کرائی۔ یہ معاہدے مکمل امن تو نہیں لائے مگر جانیں بچا گئے اور اعتماد سازی کا ذریعہ بنے۔ ان تجربات نے یہ بھی دکھایا کہ جب سول سوسائٹی، این جی اوز اور مقامی نمائندے بھی مذاکرات میں شامل ہوں تو تعمیل کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
اس وقت غزہ کو بڑے اعلانات نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے چند دنوں کی قابلِ تصدیق جنگ بندی ہونی چاہیے تاکہ زخمیوں اور بیماروں کو نکالا جا سکے اور خوراک، ایندھن اور دوائیں پہنچ سکیں۔ اسی دوران محدود قیدیوں اور یرغمالیوں کا تبادلہ اعتماد کی فضا قائم کرے گا اور بتائے گا کہ سمجھوتہ ممکن ہے۔ ایسے اقدامات ہی وسیع تر پیش رفت کے لیے بنیاد ڈالیں گے۔
اس کے بعد خطرناک اسلحے یا سرنگوں کے خاتمے اور مکمل فوجی انخلا جیسے اقدامات اُٹھائے جا سکتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر فلسطینیوں سے یہ توقع نہیں ہونی چاہیے کہ وہ اپنے بنیادی حقوق سے دستبردار ہوں۔ اصل ذمہ داری اسرائیل پر ہے کہ وہ اجتماعی سزا ختم کرے اور غزہ میں زندگی کو دوبارہ معمول پر لائے۔
علاقائی سفارت کاری بھی لازمی ہے۔ مصر، اردن، ترکی اور خلیجی ریاستوں کو اس عمل میں شامل کرنا ہوگا تاکہ معاہدے کو وسیع تر قبولیت ملے۔ پاکستان، جو سب سے بڑے مسلم ممالک میں سے ایک ہے اور ہمیشہ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا رہا ہے، اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اقوامِ متحدہ اور او آئی سی جیسے فورمز پر پاکستان اپنی سفارتی حیثیت سے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور انسانی ہمدردی کی فوری ضرورت کو اجاگر کر سکتا ہے۔ غزہ کے اندر نچلی سطح پر مصالحتی اقدامات بھی ضروری ہیں تاکہ کوئی گروہ دوبارہ تشدد نہ بھڑکا سکے۔ شفافیت لازمی ہے: عوام کو باقاعدہ آگاہی، شکایات درج کرانے کے ذرائع اور کمیونٹی مکالمے فراہم کیے جائیں۔
ٹرمپ کا منصوبہ اپنی خامیوں کے باوجود اس بات کا اشارہ ہے کہ امن کے لیے ایک بار پھر بات چیت کی گنجائش ہے۔ لیکن اصل کامیابی بڑے اعلانات میں نہیں بلکہ ان چھوٹے اقدامات میں ہے جو فوری جانیں بچا سکیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں اسی وقت رکتی ہیں جب فریقین سمجھ جائیں کہ جاری لڑائی فائدے کے بجائے زیادہ نقصان دہ ہے۔ آج غزہ اسی موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر پالیسی ساز انا اور جذبات کو ایک طرف رکھ کر عقل سے کام لیں تو وہ جان لیں گے کہ ہر دن کی تاخیر درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں مزید معصوم جانیں لے رہی ہے۔ کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کون فاتح ٹھہرتا ہے، بلکہ یہ کہ غزہ کا بچہ بمباری کے بغیر سو سکے، خاندان خوراک اور دوا حاصل کر سکے اور امید مایوسی کی جگہ لے۔ مکمل حل بعد میں آ سکتا ہے، لیکن فی الحال سب سے بڑی ضرورت معصوم جانوں کی بقا ہے۔

