ٹورنٹو (دی کینیڈین پریس، ہاؤس آف کامنز) سابق وفاقی وزیر، سائنسدان اور محفوظ کھیل (سیف اسپورٹ) کی سرگرم علمبردار کرسٹی ڈنکن 59 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں۔ کرسٹی ڈنکن 2023 میں کینسر کی تشخیص کے بعد متعدد آپریشنز، ریڈی ایشن اور کیموتھراپی کے مراحل سے گزریں اور انہوں نے اپنی بیماری اور علاج سے متعلق تفصیلات عوام کے ساتھ شیئر کی تھیں۔

کرسٹی ڈنکن 31 اکتوبر 1966 کو پیدا ہوئیں۔ وہ 2008 سے 2025 تک ٹورنٹو کے حلقے ایٹوبیکوک نارتھ سے لبرل پارٹی کی رکنِ پارلیمنٹ منتخب ہوتی رہیں اور پانچ بار کامیابی حاصل کی۔ گزشتہ سال وفاقی انتخابات کے اعلان کے بعد انہوں نے دوبارہ الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کیا۔
ان کے انتقال کی خبر کے بعد سیاسی و سماجی حلقوں میں تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اونٹاریو کے وزیرِاعلیٰ ڈگ فورڈ نے سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی دوست کرسٹی ڈنکن کے انتقال پر انتہائی رنجیدہ ہیں، وہ ایٹوبیکوک نارتھ کے عوام کی مخلص خدمت گزار اور ایک مضبوط آواز تھیں۔ بعد ازاں ٹورنٹو میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈگ فورڈ نے انہیں ایک شاندار انسان قرار دیا اور کہا کہ ان کے خاندان میں یہ اصول تھا کہ وہ کبھی کرسٹی کے مقابلے میں الیکشن نہیں لڑیں گے۔

“جنگ نیوزکینیڈا”کے چیف ایڈیٹرنے کرسٹی ڈنکن کے انتقال پر افسوس کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ آج کیمونٹی ایک ہمدرداورشفقیق شخصیت سے محروم ہوگئی ہے.کرسٹی ڈنکن مجھے ہمیشہ نام سے پکارتی تھیں.وہ ہر کسی کیلئے مخلص ہوکرسوچتی تھیں اور ہر وقت دوسروں کے کام آنے کیلئے تیارہوتیں تھی.اشرف لودھی نے مزیدکہاکرسٹی ڈنکن کوہمیشہ اچھے الفاظ سے یادرکھاجائیگا.
ہاؤس آف کامنز میں پیر کے روز کرسٹی ڈنکن کے اعزاز میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی، جہاں لبرل رکنِ پارلیمنٹ کیون لاموروکس نے ایوان میں ان کے انتقال کا اعلان کیا۔ ڈپٹی اسپیکر جان نیٹر نے کہا کہ تمام اراکینِ پارلیمنٹ مرحومہ کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کرتے ہیں اور ان کی محنت، جرات، ہمدردی اور شفقت کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
ہاؤس آف کامنز کی سائنس اور تحقیق کمیٹی نے بھی ان کے احترام میں خاموشی اختیار کی۔ لبرل رکنِ پارلیمنٹ سلمیٰ زاہد نے بتایا کہ کرسٹی ڈنکن اس کمیٹی کی پہلی چیئر تھیں اور یہ کمیٹی ان کی پرائیویٹ ممبرز موشن کے بعد قائم ہوئی۔ سلمیٰ زاہد، جو خود کینسر سے صحتیاب ہوچکی ہیں، نے کہا کہ بیماری کے دوران کرسٹی ڈنکن کی جانب سے ملنے والی حمایت کبھی فراموش نہیں کی جاسکتی۔
سابق وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو نے کرسٹی ڈنکن کو متجسس، فیاض اور دوسروں کی مدد کیلئےپرعزم شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ان سے بہت کچھ سیکھا اور انہیں دوست کہنا اعزاز تھا۔ موجودہ وزیرِاعظم مارک کارنی نے بھی سوشل میڈیا پر تعزیتی بیان میں کہا کہ کرسٹی کی زندگی خدمت اور مہربانی سے عبارت تھی اور ان کی سوچ اور سخاوت نے پورے ملک کو متاثر کیا۔
کرسٹی ڈنکن 2015 سے 2019 تک وفاقی کابینہ میں وزیرِ سائنس رہیں، جبکہ 2018 سے 2019 کے دوران وزیرِ کھیل کی ذمہ داریاں بھی انجام دیں۔ 2018 میں مختصر عرصے کے لیے وہ معذور افراد کے امور کی وزیر بھی رہیں۔ 2019 کے انتخابات کے بعد وہ ڈپٹی گورنمنٹ ہاؤس لیڈر مقرر ہوئیں اور 2021 تک اس عہدے پر فائز رہیں۔ 26 جنوری 2023 کو انہوں نے طبی رخصت لی، تاہم بطور رکنِ پارلیمنٹ خدمات انجام دیتی رہیں۔
وزارتِ کھیل کے مختصر دور میں بھی انہوں نے محفوظ کھیل کو اپنی ترجیح بنایا۔ جون 2023 میں اوٹاوا میں ہیریٹیج کمیٹی کے سامنے پیش ہوتے ہوئے انہوں نے کھیلوں میں ہر قسم کے تشدد اور استحصال کے خاتمے کے لیے قومی انکوائری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کینیڈا اس معاملے میں درست اقدامات کرے تو کھلاڑیوں کا بہتر تحفظ ممکن ہے۔ ان کے دور میں کھیلوں میں بدسلوکی کے متاثرین کے لیے قومی خفیہ ہیلپ لائن قائم کی گئی، ضابطۂ اخلاق تیار کرنے اور صنفی مساوات کے لیے سیکریٹریٹ کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا۔ 2019 کے وفاقی بجٹ میں محفوظ کھیل کے لیے پانچ سال میں 30 ملین ڈالر مختص کیے گئے تھے۔
کرسٹی ڈنکن زندگی بھر کھیلوں سے وابستہ رہیں۔ بچپن میں وہ جمناسٹ تھیں، بعد ازاں دوڑ اور ٹرائیتھلون میں حصہ لیتی رہیں۔ انہوں نے بوسٹن میراتھن کئی بار دوڑی، ہاف آئرن مین مقابلوں میں شرکت کی، کوچ، ڈانس ٹیچر اور ایتھلیٹکس جج کے طور پر بھی خدمات انجام دیں اور کھیلوں کے منفی پہلوؤں کے خلاف آواز اٹھاتی رہیں۔
سیاست میں آنے سے قبل ان کا تعلق سائنس سے تھا۔ وہ کپلنگ کولیجیٹ انسٹی ٹیوٹ کی گریجویٹ تھیں، یونیورسٹی آف ٹورنٹو سے جغرافیہ اور بشریات کی تعلیم حاصل کی، جبکہ یونیورسٹی آف ایڈنبرا سے جغرافیہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے 1993 سے 2000 تک یونیورسٹی آف ونڈسر میں موسمیات، آب و ہوا اور ماحولیاتی تبدیلی پڑھائی۔ 2003 میں انہوں نے ہسپانوی فلو پر مبنی کتاب شائع کی۔ وہ بین الحکومتی پینل برائے ماحولیاتی تبدیلی کی رکن بھی رہیں، جسے 2007 میں نوبیل انعام ملا۔
کرسٹی ڈنکن نے کینسر کے مریضوں کے لیے بھی حوصلہ افزا پیغام دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اکیلے نہیں ہیں، وہ جدید طب، سائنس اور صحت کے شعبے کے عملے کی شکر گزار ہیں۔

