ٹورنٹو: امیگریشن مخالف ریلی کیخلاف جوابی احتجاج، 10 افراد گرفتار

ٹورنٹو (نمائندہ خصوصی+سی بی سی نیوز) — کرسٹی پِٹس پارک میں”Canada First Patriot Rally” کے نام سے ایک امیگریشن مخالف تنظیم کی طرف سے ریلی منعقد کی گئی، جس کی نیت “mass deportation” یعنی وسیع پیمانے پر افراد کی ملک بدر کرنے کی تھی۔ تاہم مقامی سماج اور انسانی حقوق کے گروپوں نے اس ریلی کا سخت ردعمل دیتے ہوئے جوابی مظاہرہ کیا، جس کے نتیجے میں پولیس نے کم از کم دس افراد کو گرفتار کیا ہے۔

مظاہرہ ٹریفک مضمحل ہونے اور سڑکوں کی عارضی بندشوں کا باعث بھی بنا۔

“Canada First Patriot Rally” کے منتظمین نے انٹرنیٹ پر لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ امیگریشن کی موجودہ سطحوں کو روکا جائے کیونکہ ان کے بقول “کینیڈا تیزی سے بدل رہا ہے اور یہ تبدیلی بہتر نہیں ہے”۔

دوسری جانب، امیگریشن حقوق کی حمایتی تنظیموں، مقامی کمیونیٹیز، طلباء اور مزدور یونینز نے ریلی کیخلاف احتجاج کا اعلان کیا، انہوں نے مظاہرین کو بتایا کہ یہ پارک مہاجرین اور مختلف پسِ منظر رکھنے والے لوگوں کے اجتماع کا مقام ہے۔

تقریباً دوپہر 12:40 پر پولیس نے بتایا کہ کرسٹی اسٹریٹ اور بلور اسٹریٹ ویسٹ کے مقام پر ایک شخص کو اشتعال انگیز طرزِ عمل کے باعث حراست میں لیا گیا۔ وہیں سے پارک کے اندر اور باہر دونوں اطراف سے عوام نے جمع ہونا شروع کیا، بعض احتجاجی ریلی کے شرکاء سڑک پر آ گئے، جس سے ٹریفک متاثر ہوئی۔ پولیس نے چند روڈز عارضی طور پر بند کیے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کل چھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں امیگریشن مخالف ریلی کے شرکاء اور جوابی مظاہرہ کرنیوالے شامل ہیں۔ چند پر الزامات میں عوامی نظم و ضبط کی خلاف ورزی اور ایک پر حملے کا الزام بھی ہے۔

پولیس نے کہا ہے کہ ان کا پہلے سے منصوبہ تھا کہ وہ امن و امان برقرار رکھیں گے اور کوئی بھی غیر قانونی حرکت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے مظاہرین کو روڈ بلاک کرنے سے روکنے کی کوشش کی اور مظاہروں کے دوران تصادم سے بچنے کی کوشش کی۔

حقوق انسانی کے کارکنوں نے احتجاج کو جائز قرار دیا، مگر امیگریشن مخالفوں کے بیانات کو تقسیم انگیز اور مہاجرین کیخلاف تشویش پیدا کرنے والا کہا۔ بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات سے سماجی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے۔

ٹریفک اور روزمرہ زندگی پر اثرات: بلور اسٹریٹ ویسٹ اور کرسٹی اسٹریٹ کے قریب ٹریفک عارضی طور پر بند ہوئی، ڈرائیوروں کو متبادل راستے اختیار کرنے پڑے۔ بعض لوگ اپنے مقرر شدہ وقت پر کام یا دیگر کاموں پر پہنچنے میں تاخیر کا شکار ہوئے۔پولیس کا کہنا ہے کہ جو افراد گرفتار کیے گئے ہیں ان کیخلاف قانونی کارروائی جاری ہے اور مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

ٹورنٹو کا یہ واقعہ نہ صرف امیگریشن کے مسئلے پر عوامی جذبات کی عکاسی کرتا ہے بلکہ یہ بھی بتاتا ہے کہ سماجی ہم آہنگی اور اختلافِ رائے کا توازن قائم رکھنا کتنا اہم ہے۔ جہاں ایک طرف احتجاج کا حق آئینی اور قانونی ہے، وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ اظہارِ خیال کے دوران دیگر شہریوں کے حقوق اور سماجی امن و امان کا بھی خیال رکھا جائے۔ پولیس اور مقامی انتظامیہ پر یہ ذمہ داری ہے کہ ایسے مواقع پر مؤثر انداز سے مداخلت کریں تاکہ نفرت انگیز بیانات اور تشدد کو کسی بھی صورت میں ہوا نہ ملے۔

اپنا تبصرہ لکھیں