ٹورنٹو (اشرف خان لودھی سے) عالمی میمن آرگنائزیشن (WMO) کے تحت ایک آگاہی سیشن منعقد ہوا، جس میں مقامی میمن کمیونٹی نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ سیشن میں WMO کی تاریخ، فلاحی خدمات، اور مستقبل کے منصوبوں پر روشنی ڈالی گئی اور مقامی کمیونٹی کو فعال شمولیت کی دعوت دی گئی۔
ٹورنٹو میں منعقدہ اس سیشن میں WMO اور مقامی کمیونٹی کے اہم رہنماؤں نے شرکت کی۔ تقریب میں موجود اہم شخصیات میں سلمان اقبال (صدر WMO)، اشرف ستار (چیئرمین بورڈ آف ٹرسٹیز)، انیس بخالی (ریجنل صدر، شمالی امریکہ)، اشفاق (صدر کینیڈا میمن جماعت)، حمزہ (صدر ناصرپوریا میمن جماعت) اور شبانہ عبدالرزاق کی نمائندہ شامل تھیں۔

یہاں آنے سے پہلے میں میمن برادری کی تاریخ دیکھ رہا تھا۔جو مجھے صدیوں پیچھے لے گیا بھارت، کلکتہ، نورکوٹ، سندھ، گجرات سات سو خاندان، ہر سو خاندان کے حساب سے ہجرت لیکن جس طرح برادریاں اکٹھی ہوئیں اور آپ نے تنظیمیں اور ان کے ذیلی شعبے قائم کیے، وہ واقعی جمہوریت کی بہترین مثال ہے۔اور اس کا مقصد کیا ہے؟ کمیونٹی بنانا، ملک بنانا، تبدیلی لانا، اور ہر اس شخص کو ساتھ لے کر چلنا جو کمیونٹی، ملک یا پڑوس میں ضرورت مند ہے۔اور آپ نے اسے عالمی سطح پر پھیلا دیا ہے۔
بچوں کیلئے تعلیم، پناہ گاہیں، اسپتال، صحت کی سہولتیں آپ جو بھی نام لیں، آپ فرق پیدا کر رہے ہیں، دوستوں کو اکٹھا کر کے، لوگوں کے لیے دروازے کھول کر۔اگر میں پاکستان میں رہتا تو میں کونسلر ہوتا۔یہ ایک حقیقت ہے۔میری پرورش ایک اکیلی ماں نے کی۔میری والدہ کا خواب یہ تھا کہ میں ایک اچھا انسان بنوں، کمیونٹی میں اچھا کام کروں، ملک کے لیے خدمت انجام دوں۔

یہی وہ اقدار ہیں جو میں نے ان سے سیکھیں، اور وہی اقدار میں نے آپ میں دیکھی ہیں جیسا کہ ورلڈ میمن آرگنائزیشن جیسے ادارے دنیا کے سامنے لا رہے ہیں۔یہی قدریں عاجزی کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں، اور جتنی بھی ملاقاتیں میری میمن برادری کے دوستوں سے ہوئیں، میں نے دیکھا کہ اللہ نے آپ کو بہت کچھ دیا ہے، کیونکہ آپ کی توجہ تجارت پر ہے۔آپ جانتے ہیں، زراعت کی تاریخ میں بھی اس کمیونٹی نے بہت خدمات انجام دی ہیں۔ لیکن عاجزی کیا ہے؟ سادگی۔ اور یہی بات ہے، میں نے بھی کینیڈا میں بالکل سادہ آغاز کیا۔
میں نے ہر طرح کے کام کیے۔ مگر جذبہ ہمیشہ یہ تھا کہ محنت کرنی ہے، خدمت کرنی ہے، اور کمیونٹی میں حصہ ڈالنا ہے۔ کیونکہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ جب انسان کو ضرورت ہو، جب ٹیوشن کے پیسے نہ ہوں، جب کالج کی فیس نہ ہو، جب علاج کے لیے رقم نہ ہو مجھے یاد ہے جب میری والدہ اسپتال میں داخل تھیں۔میں پاکستان گیا تھا۔ کوئی مجھے ایک گلاس پانی دے سکتا ہے؟ معذرت، سمر بھائی، میں یہ اس لیے کہہ رہا ہوں کیونکہ جو آپ کرتے ہیں اور جس طرح یہ کمیونٹی کام کر رہی ہے، ان کہانیوں کا سنانا بہت ضروری ہے۔ ذاتی تجربات کا بانٹنا بہت اہم ہے۔
آپ نے کہا تھا کہ سات منٹ میں بات ختم ہو جائے گی، مگر لگتا ہے میں لمبا بول گیا۔ اُس وقت میری والدہ کو ایک انجکشن کی ضرورت تھی، جس کی قیمت پندرہ سو روپے تھی۔ اور ایک رات میرے پاس پیسے ختم ہو گئے تھے۔میں پنجاب میں کئی دوستوں کے پاس گیا۔ وہاں ایک میڈیکل اسکول کا لڑکا کام کر رہا تھا، میں نے اسے کہا کہ مجھے ایک انجکشن دے دے۔ شفٹ ختم ہونے سے پہلے میں نے اسے وہی انجکشن واپس کر دیا۔میں نے وہ انجکشن حاصل کیا، اور میرا خیال ہے میں تین گھنٹے گاڑی چلاتا رہا، تقریباً دس گھروں تک گیا، لیکن آخرکار میں نے وہ انجکشن لے لیا۔الحمدللہ وہ وقت گزر گیا، مگر آج بھی وہ یاد ہے۔
میں یہ واقعہ اس لیے بتا رہا ہوں کہ جب انسان خود ضرورت میں ہوتا ہے تو اسے اندازہ ہوتا ہے کہ دوسروں کی مدد کتنی قیمتی ہوتی ہے۔ جب آپ کام کر رہے ہوتے ہیں، اور کوئی بچہ اسکول جاتا ہے، کوئی علاج حاصل کرتا ہے، کوئی شادی کر لیتا ہے — تو یہ سب حقیقی تبدیلیاں پیدا کرتے ہیںاور آپ یہی تبدیلی لا رہے ہیں۔ آپ ایک پلیٹ فارم مہیا کر رہے ہیں۔ معاف کیجیے گا، میں اپنی تقریر سے ذرا ہٹ گیالیکن جو بات دل سے نکلتی ہے، وہ اثر رکھتی ہے۔ اسلئے میں آپ سب کیلئےبے حد احترام رکھتا ہوں، اور آپ کی خدمات کو تسلیم کرنا چاہتا ہوں۔آپ جو کر رہے ہیں، اس کیلئےبے حد شکریہ۔
اسی طرح، کینیڈا میں وزیرِ اعظم نے بچوں کیلئے ایک قومی فوڈ پروگرام کا اعلان کیا ہے۔ اس کا پائلٹ پروگرام شروع کیا گیا ہے، اور اب اسے باقاعدہ منظوری مل گئی ہے۔ اس پروگرام سے 400 بچے مستفید ہوں گے۔ جن خاندانوں کی سالانہ آمدن 800 ڈالر ہے، وہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔اسی طرح سستے گھروں کیلئے ’’تعمیر کینیڈا ہوم‘‘کے نام سے ایک بڑا منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ یہ بہت بڑی سرمایہ کاری ہے۔ جیسا کہ میں نے کہا، کینیڈا میں افورڈیبلٹی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔جو لوگ استطاعت نہیں رکھتے، حکومت انہیں سہارا دیتی ہے۔میں اس موقع پر بے حد شکر گزار ہوں۔ آپ اپنا شاندار کام جاری رکھیںاور کینیڈا تشریف لانے پر آپ کا شکریہ۔آپ کیلئےایک یادگاری تحفہ ہے آپ کی خدمات اور آپ کے کام کے اعتراف کے طور پر۔
سلمان اقبال (صدر WMO)نے اپنے خطاب میں تمام عہدیداران کابہت شکریہ۔ آپ لوگ ہمیشہ سے ایک مضبوط کمیونٹی کے رکن رہے ہیں۔حکومت کا ایک چوتھائی حصہ ان تمام خوبصورت لوگوں کی ملاقات ورلڈ ڈے آف ریڈیکلائزیشن کی ٹیم سے کروائے گا۔(WHO plan) سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آج کے دور میں ہمیں کنیکٹیویٹی (رابطے) کی ضرورت کیوں ہے، جب ہمارے پاس سوشل میڈیا موجود ہے؟ ہم سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
لیکن یہ حاجی صاحب (مرحوم میرے محترم چچا) کا خواب تھا تقریباً 23یا24سال پہلے کا۔جب انٹرنیٹ نہیں تھا، فیس بک نہیں تھی، کوئی رابطہ نہیں تھا۔تو حاجی صاحب نے کہا کہ ہمیں ایک ایسی تنظیم بنانی چاہیے جو تمام جماعتوں کو ایک ساتھ جوڑ دے۔بھارت میں تقریباً 350 جماعتیں ہیں، پاکستان میں 80 سے زیادہ جماعتیں ہیں۔انہوں نے کہا: “ہمارے مذہب میں جیسے کئی فرقے ہیں، اسی طرح ہماری ثقافت میں، میمن تنظیموں میں، کئی جماعتیں ہیں۔ ہم اپنی جماعت کے نام سے پہچانے جاتے ہیں، اور آپ یقین کریں، چاہے وہ پرانے زمانے کے میمن ہوں، یا موجودہ وقت کے سب کا آپس میں کسی نہ کسی طرح رشتہ موجود ہے۔”
انہوں نے مزید کہا: “ہمارے میمنوں میں سب کا ایک نہ ایک تعلق ہوتا ہے۔ میں جب دبئی سے پاکستان آتا تھا تو مجھے ہمیشہ کسی نہ کسی خاندانی رشتے دار سے ملنا پڑتا تھا۔ لوگ کہتے تھے: ‘اوہ، میں تمہارے باپ کے دوست کا بیٹا ہوں، یا تمہارے دادا کے دوست کا پوتا ہوں۔’”انہوں نے کہا کہ: “میڈیا آنے کے بعد ہمارے رشتے اور بڑھ گئے ہیں۔ اب حکومت کے آنے سے بھی رشتے مضبوط ہو رہے ہیں۔ آپ سب سے میرا رشتہ مزید قریب ہوتا جا رہا ہے۔”
گزشتہ 23 سالوں میں WMO نے 100 ملین ڈالر سے زائد عطیات دیے۔مقررین کے مطابق پاکستان میں ہونے والے 70 فیصد فلاحی کام میمن کمیونٹی کرتی ہے۔اشرف ستار نے بھارت میں میمن کمیونٹی کی انتہائی غربت کی صورتحال بیان کرتے ہوئے تعلیم اور رہائش کیلئے امداد کی اپیل کی۔تنظیم کی خدمات صرف میمن کمیونٹی تک محدود نہیں ہیں بلکہ دیگر مستحق افراد کی مدد بھی شامل ہے۔
حاضرین کو زندگی بھرکیلئے ممبر بننے کی دعوت دی گئی، جس کیلئے فیس 1000ڈالر مقرر ہے۔ کینیڈا چیپٹر کیلئے جوشیلے اور مضبوط رہنماؤں کی ضرورت ہے۔ شرکاء کو جده میں 6 تا 9 نومبر ہونے والے AGM میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ٹورنٹو میں منعقدہ اس آگاہی سیشن نے WMO کے فلاحی مشن اور عالمی شمولیت کیلئے کمیونٹی میں شعور اجاگر کیا اور مستقبل میں کمیونٹی کے فعال کردار کیلئے راہ ہموار کی۔

