ٹورنٹو (نمائندہ خصوصی) پاکستان نے پراسپیکٹرز اینڈ ڈیولپرز ایسوسی ایشن آف کینیڈا (PDAC) 2026 کنونشن میں بھرپور اور مؤثر شرکت کرکے عالمی معدنی صنعت میں اپنی موجودگی کا مضبوط اظہار کیا ہے۔ یہ عالمی سطح پر معدنی تلاش اور کان کنی سے متعلق سب سے بڑا اور معتبر ایونٹ تصور کیا جاتا ہے۔

کینیڈا میں پاکستان کے ہائی کمشنر محمد سلیم اور قونصل جنرل خلیل باجوہ نے بھی کانفرنس میں شرکت کی اور پی ڈی اے سی کی افتتاحی تقریب سمیت پاکستانی اسٹال کے انتظامات کا جائزہ لیا۔
پاکستان 11 رکنی اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ اس چار روزہ کانفرنس میں شریک ہوا، جہاں 135 ممالک سے تعلق رکھنے والے 30 ہزار سے زائد صنعت کار، سرمایہ کار اور ماہرین موجود ہیں۔وفد میں ملک کے نمایاں توانائی اور معدنی اداروں کے نمائندگان شامل ہیں جن میں ماری منرلز،آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل)،پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ،پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ،سیندک میٹلز لمیٹڈشامل ہیں.

پاکستان کی شرکت کا مرکزی نکتہ ماری منرلز کا خصوصی اسٹال ہے، جہاں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو پاکستان کے ’’منرل کوریڈور‘‘ سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی جا رہی ہے۔ اس میں ریکوڈک اور سیندک جیسے عالمی معیار کے منصوبوں کو خصوصی طور پر اجاگر کیا گیا ہے۔
وفد کے ایجنڈے میں بزنس ٹو بزنس ملاقاتیں شامل ہیں تاکہ پاکستانی سرکاری اداروں اور عالمی کان کنی کمپنیوں کے درمیان براہ راست رابطے استوار کیے جا سکیں۔ اس کے علاوہ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل کے تحت سرمایہ کاری کے لیے فراہم کی جانے والی سہولتوں کو بھی اجاگر کیا جا رہا ہے۔

وفد نے اپریل میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والے پاکستان منرل انویسٹمنٹ فورم میں کینیڈین کمپنیوں کو شرکت کی دعوت بھی دی۔واضح رہے کہ پی ڈی اے سی کنونشن دنیا بھر میں معدنی تلاش سے وابستہ افراد، کمپنیوں اور اداروں کے لیے ایک نمایاں پلیٹ فارم ہے، جہاں 1100 سے زائد نمائش کنندگان اور 700 مقررین شریک ہوتے ہیں۔ پاکستان نے مسلسل دوسرے سال پی ڈی اے سی ٹورنٹو میں بھرپور اور مضبوط انداز میں اپنی موجودگی درج کرائی ہے، جو ملکی معدنی شعبے میں عالمی دلچسپی کا واضح ثبوت ہے۔

