لندن (بی بی سی/مانیٹرنگ ڈیسک) شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپ ’ٹک ٹاک‘ کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ اس کا الگورتھم نابالغ بچوں کو جنسی نوعیت کے مواد کی تجاویز دے رہا ہے، حالانکہ یہ اس کے اپنے ضوابط کے سراسر خلاف ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق انسانی حقوق کی مہم گروپ گلوبل وِٹنس کی ایک تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ٹک ٹاک اپنے ’ریسٹرکٹڈ اکاؤنٹس‘ — یعنی محدود فیچرز والے بچوں کے اکاؤنٹس — پر بھی جنسی مواد کی تجویز دیتا ہے۔
تحقیق کاروں نے جولائی اور اگست کے دوران 13 سالہ بچوں کے نام سے چار جعلی اکاؤنٹس بنائے۔ ان اکاؤنٹس پر حفاظتی سیٹنگز اور ’ریسٹرکٹڈ موڈ‘ آن ہونے کے باوجود ایپ نے ان کے فیڈ میں جنسی مواد اور فحش نوعیت کی سرچ تجاویز پیش کیں۔
رپورٹ کے مطابق نابالغ اکاؤنٹس پر عورتوں کو نامناسب انداز میں دکھانے والی تصاویر، ویڈیوز اور بعض انتہائی فحش مناظر کی تجاویز بھی شامل تھیں۔
تحقیق کاروں نے اس صورتحال پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کے لیے مخصوص اکاؤنٹس پر اس طرح کے مواد کی تجاویز دیکھنا انتہائی افسوسناک ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ ٹک ٹاک اپنے صارفین، خاص طور پر کم عمر بچوں کو، محفوظ رکھنے میں ناکام ہے۔
دوسری جانب ٹک ٹاک کے ترجمان نے ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایپ میں50 سے زائد حفاظتی فیچرز موجود ہیں جو کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس کو محفوظ رکھتے ہیں، اور کمپنی کا الگورتھم 10 میں سے 9 خلاف ورزی کرنے والی ویڈیوز ازخود حذف کر دیتا ہے۔
ترجمان کے مطابق ٹک ٹاک اپنی سروس کو بچوں کیلئے مزید محفوظ بنانے کیلئےمسلسل اقدامات کر رہا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایپ کو اپنے الگورتھم کی نگرانی اور شفافیت میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔

