لاہور (نمائندہ خصوصی) — تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے دارالحکومت کی جانب مجوزہ مارچ کو روکنے کی کوششوں کے باعث جمعرات کے روز لاہور میں کشیدگی دیکھی گئی، جبکہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل رہی۔
پولیس اور مظاہرین کے درمیان بدھ کی شب ہونے والی جھڑپوں کے بعد شہر میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی۔ جڑواں شہروں میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے موبائل انٹرنیٹ سروس تا حکم ثانی معطل کر دی گئی ہے۔
لاہور میں بدھ کی شب پولیس اور ٹی ایل پی کارکنوں کے درمیان تصادم کے بعد جمعرات کو بھی صورتحال کشیدہ رہی۔ انتظامیہ نے شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر کنٹینرز لگا کر سڑکیں بند کر دیں، جبکہ ملتان روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہی۔
ذرائع کے مطابق ٹی ایل پی نے اپنے کارکنوں کو جمعے کے روز لاہور پہنچنے کی ہدایت دی ہے۔ پولیس کو خدشہ ہے کہ احتجاج پرتشدد رخ اختیار کر سکتا ہے، اسی لیے صوبے بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی میں بھی داخلی راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں تاکہ کسی ممکنہ احتجاج کو روکا جا سکے۔ وزارت داخلہ کی ہدایت پر دونوں شہروں میں موبائل انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھا جا سکے۔
جمعرات کی شام تک فضا میں کشیدگی برقرار رہی، جبکہ شہریوں کو ٹریفک جام اور سڑکوں کی بندش کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پولیس اور انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر ضروری طور پر متاثرہ علاقوں کی طرف جانے سے گریز کریں۔

