لاہور (نمائندہ خصوصی) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حالیہ سیلابی ریلوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے، دیامر بھاشا ڈیم سمیت موجودہ ڈیموں کی گنجائش بڑھانا ناگزیر ہے۔
وزیراعظم کو لاہور میں حالیہ سیلابی صورتحال اور متاثرہ علاقوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، صوبائی و وفاقی وزرا، چیئرمین این ڈی ایم اے، چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس سمیت اعلیٰ حکام موجود تھے۔
“سیلابی نقصانات اور اداروں کی کارکردگی”
شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ ہفتوں میں آنے والی قدرتی آفات نے پہلے گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کو متاثر کیا اور اب پنجاب کے میدانوں میں تباہی مچائی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔ انہوں نے جاں بحق ہونے والوں کیلئےمغفرت اور لواحقین کیلئےصبر کی دعا کی۔
وزیراعظم نے سیلابی صورتحال سے نمٹنے میں وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت میں انتظامیہ اور اداروں کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، محکمہ صحت، پولیس اور دیگر ادارے دن رات کام کر رہے ہیں، جو قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے افواجِ پاکستان، این ڈی ایم اے اور مقامی قیادت کی خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے ہیلی کاپٹر، کشتیاں اور دیگر سہولتیں فراہم کر کے عوام کی بروقت مدد کی۔
“موسمیاتی تبدیلی اور مستقبل کا چیلنج”
وزیراعظم نے کہا کہ یہ مشترکہ ٹیم ورک ہی ہے جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نقصان کم ہوا۔ انہوں نے 2022 کے سیلابی بحران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت سندھ اور بلوچستان سب سے زیادہ متاثر ہوئے تھے اور پاکستان کو اربوں ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث سب سے زیادہ خطرے میں ہیں، آئندہ برسوں میں بھی ایسی صورتحال کا سامنا ہوسکتا ہے۔ لہٰذا وفاق اور صوبوں کو مل کر مربوط حکمتِ عملی بنانا ہوگی۔
“ڈیمز اور ذخائر کی ضرورت”
وزیراعظم شہباز شریف نے زور دیا کہ سب سے بڑا حل پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانا ہے تاکہ فلیش فلڈز اور نقصانات پر قابو پایا جا سکے۔ اس مقصد کیلئے فوری طور پر نئے ڈیمز اور موجودہ ڈیموں کی گنجائش بڑھانے پر عملی اقدامات شروع کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج سے کوششیں شروع کی جائیں تو اس بڑے مقصد کے حصول میں کئی سال لگ سکتے ہیں، مگر یہ پاکستان کے مستقبل کیلئے ناگزیر ہے۔
اختتام میں وزیراعظم نے دعا کی کہ سندھ کی جانب بڑھنے والے سیلابی ریلے میں اللہ تعالیٰ اپنی خاص رحمت سے کمی فرمائے۔

