وینس(کلچرل ڈیسک)دنیا کے معتبر فلمی میلے وینس میں پاکستانی نژاد امریکی فلم ساز شہریزاد مہر کی مختصر فلم ’’دی کرفیو‘‘ کا پریمیئر ہوگیا۔ یہ اس سال کے فیسٹیول میں پاکستان کی واحد نمائندہ فلم تھی جسے 4 اور 5 ستمبر کو دو مختلف مقامات پر دکھایا گیا۔
فلم کے پروڈیوسرز میں لنڈسے بلیئر گولڈنر اور مترہ جاوید شامل ہیں جبکہ کاسٹ میں ستھیا سری دھرن، بلندر جوہل، سارہ حیدر، راجیش بوس، کرس تھورن اور سلویٰ خان نے کام کیا ہے۔
کہانی ایک پاکستانی نژاد امریکی نوجوان عیان کے گرد گھومتی ہے جو اپنی نانی نیر کی دیکھ بھال کر رہا ہوتا ہے۔ نیر فالج کے بعد کمزور ہوجاتی ہیں اور صرف اردو بولتی ہیں جبکہ ان کا نواسہ یہ زبان اچھی طرح نہیں سمجھ پاتا۔ اس کے نتیجے میں دونوں کے درمیان زبان اور یادوں کے فرق سے فاصلے پیدا ہوتے ہیں۔ نیر کے خواب اور 1970 کی دہائی میں پاکستان میں لگنے والے مارشل لا کی یادیں بھی اس رشتے کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔
فلم میں یہ دکھایا گیا ہے کہ نسلوں کے درمیان کس طرح روایات اور زخم منتقل ہوتے ہیں، اور کس طرح ذاتی ذمہ داریاں سیاسی و سماجی تاریخ سے جڑ جاتی ہیں۔ امریکا میں عیان کو نسلی تعصب اور روزمرہ مسائل کا سامنا ہے جو اس کے بوجھ کو مزید بڑھاتے ہیں۔
فلم کی کہانی ایک تصویر اور پھل فروش کی ریڑھی کے منظر سے شروع ہوتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ پوری داستان کھلتی ہے۔ جگہوں اور مناظر کو کرداروں کے جذباتی حالات کے استعارے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے جیسے تنگ گلیاں اور پرانے فلیٹ۔
ستھیا سری دھرن (عیان) کو ان کی آنکھوں کے ذریعے جذبات ظاہر کرنے کی صلاحیت پر کاسٹ کیا گیا جبکہ بلندر جوہل نے نیر کا کردار ادا کیا۔ سارہ حیدر نے بہن زینب کی آواز دی جو فلم میں مزاح اور قربت کا لمس لے کر آتی ہے۔
یہ شہریزاد مہر کا پہلا کہانی پر مبنی پراجیکٹ ہے، اس سے قبل وہ دستاویزی اور ویڈیو آرٹ پر کام کرتی رہی ہیں۔ فلم کی ایڈیٹنگ میں گھریلو مناظر اور نگرانی کی ویڈیوز کو جوڑ کر ایک ایسا ماحول تخلیق کیا گیا ہے جس میں مرکزی کردار مسلسل ’غلط سمجھے جانے‘ یا ’نظر رکھے جانے‘ کے احساس میں مبتلا رہتا ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ ’دی کرفیو‘ کو 2023 میں اسلامک اسکالرشپ فنڈ کی نیشنل فلم گرانٹ بھی مل چکی ہے۔

