اسلام آباد / لندن / واشنگٹن (ایجنسیاں)گزشتہ برس مئی میں بھارت کے ساتھ چار روزہ جھڑپ کے بعد پاکستانی ساختہ دفاعی سازوسامان، خاص طور پر جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیارے، سپر مشاق تربیتی طیارے، اور دیگر عسکری مصنوعات نے عالمی سطح پر نمایاں توجہ حاصل کی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان کی دفاعی صنعت کی صلاحیت اور جنگ میں آزمایا گیا کردار اس کی برآمدات میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔

پاکستان کی دفاعی صنعت، جو طویل عرصے سے کوآپریٹو پروگراموں کے تحت چین کے ساتھ جے ایف 17 تھنڈر تیار کرتی آئی ہے، حالیہ میڈیا رپورٹس کے مطابق عراق، سعودی عرب، بنگلہ دیش، لیبیا اور سودان سمیت کئی ممالک کے ساتھ نئے معاہدوں اور مذاکرات میں مصروف ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب سعودی عرب کے پاکستان کو دیے گئے تقریباً 2 ارب ڈالر قرضے کو جے ایف 17 لڑاکا طیاروں اور دیگر دفاعی سازوسامان کے معاہدے میں تبدیل کرنے پر مذاکرات کر رہے ہیں، جس کی مجموعی مالیت تقریباً 4 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اس بات کا انکشاف مختلف ملکی اور بین الاقوامی ذرائع نے کیا ہے۔

اسی سلسلے میں بنگلہ دیش نے جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی ممکنہ خریداری میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جس پر پاک فضائیہ اور بنگلہ دیشی وفود کے مابین تبادلہ خیال ہوا۔
عالمی رپورٹوں کے مطابق لیبیا کے ساتھ بھی ایک اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدے پر اتفاق ہوا ہے جس میں پاکستان کی تیار کردہ مختلف عسکری اشیاء بشمول جے ایف 17 اور سپر مشاق تربیتی طیارے شامل ہو سکتے ہیں، اور یہ پاکستان کی دفاعی صنعت کے لیے ایک اہم عالمی قدم تصور کیا جا رہا ہے۔

مزید برآں، پاکستان ایک اور ممکنہ 1.5 ارب ڈالر کے معاہدے کے قریب پہنچ چکا ہے جس کے تحت وہ سودان کو اسلحہ، جہاز اور ڈرونز فراہم کرے گا، جو افریقی ملک کی مسلح افواج کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق یہ عالمی معاہدے اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان کی دفاعی صنعت اپنی مقامی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے عالمی منڈی میں مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور جنوبی ایشیا کے ممالک کے لیے ایک قابل بھروسہ ہتھیار ساز اور برآمد کنندہ ملک کے طور پر ابھر رہی ہے۔
عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ جنگی تجربات اور بین الاقوامی ڈپلومیسی دونوں نے پاکستان کو دفاعی برآمدات کیلئے مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا ہے، جس کی وجہ سے متعدد ممالک اس کی مصنوعات میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

