بیجنگ (نمائندہ خصوصی) – چین نے کہا ہے کہ پاکستان نے یقین دلایا ہے کہ اس کے امریکا کے ساتھ تعلقات بیجنگ کے مفادات یا چین-پاکستان تعاون کو کبھی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔
چینی خبر رساں ایجنسی ژنہوا کی رپورٹ کے مطابق چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے بتایا کہ حال ہی میں ریئر ارتھ (نایاب ارضیاتی معدنیات) اور متعلقہ اشیا پر چینی برآمدی پابندیاں پاکستان سے متعلق نہیں ہیں۔ ان اقدامات کو چینی حکومت نے اپنے برآمدی کنٹرول کے نظام کو بہتر بنانے کیلئےقانون و ضوابط کے مطابق اختیار کیا ہے۔
لن جیان نے کہا کہ میڈیا رپورٹس جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان چینی آلات اور ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے نایاب معدنیات امریکا کو برآمد کر رہا ہے، بے بنیاد اور حقائق کی غلط تفہیم پر مبنی ہیں۔ ترجمان نے بتایا کہ پاکستانی رہنماؤں نے امریکی ہم منصبوں کو جو معدنی نمونے دکھائے، وہ خام قیمتی پتھروں کے نمونے تھے جو مقامی طور پر خریدے گئے تھے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ چین اور پاکستان ہر موسم کے اسٹریٹجک شراکت دار ہیں اور اعلیٰ سطح کی باہمی اعتماد اور اہم معاملات پر قریبی رابطے میں رہتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ چین کے برآمدی کنٹرول کے یہ اقدامات عالمی امن، علاقائی استحکام، اور عدم پھیلاؤ جیسے بین الاقوامی وعدوں کی تکمیل کے لیے کیے گئے ہیں۔
“پس منظر”
8 ستمبر 2025 کو امریکی کمپنی یو ایس اسٹریٹجک میٹلز (USSM) نے پاکستان میں اہم معدنیات کے حوالے سے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ معاہدے کے تحت USSM 50 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی اور پاکستان میں جدید پالی میٹلک ریفائنری قائم ہوگی۔ ابتدائی طور پر تانبہ، سونا اور ٹنگسٹن کی برآمد شروع ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق USSM نے معاہدے کو آگے بڑھانے کیلئے معدنی نمونوں کی پہلی کھیپ امریکا بھیجی، جس میں اینٹیمنی، تانبے کے کانسینٹریٹ، اور نایاب ارضی عناصر جیسے نیوڈی میئم اور پریسیوڈی میئم شامل ہیں۔ USSM نے اس ترسیل کو پاکستان–امریکا اسٹریٹجک شراکت داری میں سنگِ میل قرار دیا ہے، اور کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت معدنیات کی ویلیو چین، تلاش و ترقی سے لے کر پاکستان میں ریفائنریز کے قیام تک تعاون کا روڈ میپ فراہم کرتی ہے۔

