اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)پاکستان نے ڈیجیٹل ترقی کی جانب ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے دنیا کی سب سے بڑی سبمرین انٹرنیٹ کیبل “افریقہ-2” (2Africa) سے باقاعدہ طور پر کنیکٹیویٹی حاصل کر لی ہے۔ یہ جدید اور طاقتور کیبل 45,000 کلومیٹر طویل عالمی نیٹ ورک پر مشتمل ہے جو 33 ممالک کو 46 لینڈنگ اسٹیشنز کے ذریعے جوڑتی ہے۔ اس پیش رفت سے پاکستان کی انٹرنیٹ بینڈوڈتھ، لیٹنسی، اور نیٹ ورک ریزیلینس میں نمایاں بہتری آئے گی۔
ڈیجیٹل ترقی کی جانب فیصلہ کن قدم
افریقہ-2 کیبل کی آمد سے پاکستان میں اے آئی ڈیٹا سینٹرز، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، اور ہائی ٹیک ڈیجیٹل سروسز کے لیے مضبوط بنیاد فراہم ہو گی۔ اس سے نہ صرف ڈیٹا کی تیزرفتار ترسیل ممکن ہو گی بلکہ مقامی ڈیٹا پراسیسنگ کی استعداد بھی بڑھے گی۔
ڈیجیٹل معیشت کی تشکیل
پاکستان میں اس وقت 4 کروڑ سے زائد کرپٹو صارفین موجود ہیں، جو ملک کی ڈیجیٹل معیشت میں تیزی سے اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مقامی سطح پر اے آئی ڈیٹا سینٹرز کا قیام ڈیٹا خودمختاری کے خدشات کو ختم کرے گا، سائبر سیکیورٹی کو بہتر بنائے گا اور ڈیجیٹل سروسز کی دستیابی میں بہتری لائے گا۔
ملازمتوں اور مہارتوں میں اضافہ
اس منصوبے کے نتیجے میں ملک بھر میں ہزاروں براہ راست اور بالواسطہ ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ یہ اقدامات انجینئرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، اور ڈیٹا سائنسز جیسے جدید شعبوں میں ہنر مند افراد کی تیاری کا ذریعہ بنیں گے۔
ڈیجیٹل ویژن – مستقبل کی راہ
یہ اقدام ایک وسیع تر ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر پراجیکٹ کا پہلا مرحلہ ہے، جس میں مستقبل میں قابل تجدید توانائی سے چلنے والے ڈیٹا سینٹرز، بین الاقوامی شراکت داریاں، فِن ٹیک اور انوویشن ہبز، اور بلاک چین و اے آئی کمپنیوں سے تعاون شامل ہے۔ حکومت کی جانب سے متوقع مراعات میں ٹیکس چھوٹ، ساز و سامان پر کسٹم ڈیوٹی سے استثنیٰ، اور اے آئی انفرااسٹرکچر ڈویلپرز کے لیے ٹیکس میں کمی شامل ہے۔
ڈیجیٹل پاکستان کا خواب حقیقت کی جانب
پاکستان کی اضافی توانائی، جغرافیائی اہمیت، جدید سبمرین کیبلز سے کنیکٹیویٹی، اور بڑی ڈیجیٹل آبادی کی موجودگی اسے عالمی ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کا ایک کلیدی مرکز بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ ایک ایسا خودمختار ڈیجیٹل ماڈل تشکیل دے سکتا ہے جو ڈیجیٹل اثاثے تیار کرے، سروسز برآمد کرے، اور ٹیکنالوجی کے میدان میں عالمی قیادت کا کردار ادا کرے۔

