کچھ عرصہ قبل پاکستان عالمی سطح پر تقریباً تنہائی کا شکار دکھائی دیتا تھا۔ سفارتی طور پر محدود، اقتصادی طور پر کمزور، اور حتیٰ کہ مسلم دنیا میں بھی اپنی اہمیت منوانے میں دشواریوں سے دوچار۔ داخلی سیاسی عدم استحکام، سلامتی کے مسلسل چیلنجز، غیر مربوط خارجہ حکمتِ عملی اور مالی بدانتظامی نے اس تاثر کو مزید گہرا کیا۔ خصوصاً 2018کے بعد کے چند برسوں میں خارجہ حکمتِ عملی کے بعض متنازع فیصلوں اور علاقائی سفارتی توازن میں تبدیلیوں نے پاکستان کے گرد سفارتی فاصلے کے تاثر کو مزید گہرا کیا۔ عالمی فیصلہ سازی کے عمل میں پاکستان کی شمولیت محدود محسوس ہونے لگی، اور طویل المدتی منصوبہ بندی قلیل المدتی سیاسی بقا کی نذر ہوتی دکھائی دی۔ حکومتوں کی تبدیلی اور پالیسی کے عدم تسلسل نے اعتماد کو متاثر کیا۔ کئی دہائیوں سے مختلف عالمی واقعات، بڑی طاقتوں کے باہمی مفادات کی کشمکش اور خطے کی غیر یقینی صورتحال نے بھی پاکستان کی شناخت کو زیادہ تر سلامتی کے زاویے تک محدود رکھا، جس کے باعث اس کی وسیع تر اقتصادی اور سفارتی صلاحیت پوری طرح نمایاں نہ ہو سکی۔
مسلم دنیا میں بھی وقت کے ساتھ پاکستان کی حیثیت کمزور پڑتی گئی۔ مسلم اکثریتی ممالک میں واحد ایٹمی طاقت ہونے اور نمایاں عسکری و آبادیاتی صلاحیت کے باوجود، داخلی تقسیم اور اقتصادی انحصار نے اس کے قائدانہ کردار کو محدود رکھا۔ کئی خلیجی ریاستیں پاکستان کو بنیادی طور پر سلامتی فراہم کرنے والے شراکت دار کے طور پر دیکھتی رہیں، نہ کہ ایک سیاسی یا اقتصادی رہنما کے طور پر۔ اسی دوران دیگر ابھرتے ہوئے ممالک اس فکری اور سفارتی خلا کو پُر کرتے گئے جو کبھی پاکستان کے حصے میں تھا۔ بڑھتا ہوا قرضہ اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں پر مسلسل انحصار خارجہ خودمختاری پر بھی اثر انداز ہوا۔
تاہم عالمی سیاست کی بدلتی بساط نے حالات کو یکساں نہیں رہنے دیا۔ گزشتہ برسوں میں علاقائی اور عالمی تبدیلیوں نے پاکستان کے کردار پر ازسرِنو غور کو ناگزیر بنا دیا ہے۔ جغرافیہ—جو کبھی بوجھ سمجھا جاتا تھا—دوبارہ ایک اسٹریٹجک اثاثہ بن کر ابھرا ہے۔ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور چین کے سنگم پر واقع پاکستان ایسے مقام پر ہے جس کی افادیت ایک منقسم عالمی نظام میں مسلسل بڑھ رہی ہے۔
عالمی کشیدگی کے ماحول میں پاکستان نے نسبتاً متوازن سفارتی طرزِ عمل اختیار کیا۔ بڑی طاقتوں کے درمیان تناؤ کے باوجود کسی ایک بلاک سے وابستگی کے بجائے متوازن روابط برقرار رکھے گئے۔ حساس علاقائی رقابتوں میں بھی تحمل، مکالمے اور غیرجانبداری کو ترجیح دی گئی، اور خود کو پراکسی تنازعات سے دور رکھتے ہوئے پسِ پردہ کشیدگی کم کرنے کی حمایت جاری رکھی گئی۔ اس رویّے نے پاکستان کو ایک ذمہ دار اور استحکام پسند ریاست کے طور پر پیش کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے آنے کے بعد پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں ایک نئی نوعیت کی عملی گرمجوشی دیکھنے میں آئی، حالانکہ اس سے قبل دونوں ممالک کے روابط ایک عرصے تک سردمہری کا شکار رہے تھے۔ بدلتے ہوئے علاقائی حالات، افغانستان کے تناظر میں تعاون کی ضرورت اور بڑی طاقتوں کے درمیان نئی صف بندی نے واشنگٹن اور اسلام آباد کو دوبارہ رابطے کی میز پر لانے میں کردار ادا کیا۔ عالمی معاملات، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات میں پاکستان کے متوازن کردار، سکیورٹی تعاون اور سفارتی مکالمے نے تعلقات میں جمود کو کسی حد تک توڑا۔ یہ گرمجوشی روایتی اتحادی فریم ورک سے مختلف اور زیادہ مفاداتی نوعیت کی ہے، جس میں نظریاتی وابستگی کے بجائے عملی مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا اہم ستون چین۔پاکستان اقتصادی راہداری ہے، جس نے پاکستان کے کردار کو سلامتی کے دائرے سے آگے بڑھایا۔ سی پیک نے ملک کو علاقائی رابطے کے ممکنہ مرکز کے طور پر پیش کیا ہے، جو مغربی چین کو عالمی منڈیوں سے جوڑتا ہے اور بنیادی ڈھانچے، توانائی اور صنعتی ترقی کے نئے مواقع فراہم کرتا ہے۔
لیکن اسٹریٹجک افادیت خود بخود خوشحالی میں تبدیل نہیں ہوتی۔ عالمی اہمیت نہ روزگار پیدا کرتی ہے، نہ مہنگائی کم کرتی ہے۔ جب تک اسے پیداواری طاقت میں نہ ڈھالا جائے۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ پاکستان اپنی نئی سفارتی حیثیت کو پائیدار اقتصادی استحکام میں کیسے تبدیل کرے۔
اس کے لیے معیشت کو کھپت، درآمدات اور بیرونی قرضوں کے چکر سے نکال کر پیداوار اور برآمدات پر مبنی ماڈل کی طرف منتقل کرنا ہوگا۔ ویلیو ایڈڈ صنعت، آئی ٹی خدمات، زرعی پراسیسنگ، ادویات اور حلال فوڈ جیسے شعبے حقیقی ترقی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ نوجوان آبادی کو بوجھ نہیں بلکہ صلاحیت سمجھ کر تعلیم، تکنیکی مہارت اور کاروباری مواقع میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔
ٹیکس نیٹ کی توسیع، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، سرکاری اداروں کی تنظیمِ نو اور پالیسی کے تسلسل کے بغیر سرمایہ کار اعتماد بحال نہیں ہوگا۔ قلیل المدتی بیل آؤٹس کے بجائے طویل المدتی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی منتقلی پر مبنی شراکت داری ہی پائیدار راستہ فراہم کر سکتی ہے۔ علاقائی تجارت کو سیاسی نعرے کے بجائے عملی اقتصادی انضمام میں بدلنا ہوگا، تاکہ لاگت کم ہو، برآمدات بڑھیں اور روزگار پیدا ہو۔
بالآخر، کسی بھی قومی حکمتِ عملی کی کامیابی کا پیمانہ عام شہری کی زندگی میں بہتری ہے۔ اگر اسٹریٹجک اثر و رسوخ کو داخلی نظم، کرپشن سے پاک اور شفاف حکمرانی اور پیداواری صلاحیت کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو پاکستان کی اہمیت محض جغرافیائی حقیقت نہیں رہے گی بلکہ اقتصادی طاقت میں ڈھل سکتی ہے۔ ورنہ اہمیت ایک موقع رہے گی، استحکام نہیں۔

