واشنگٹن( نمائندہ خصوصی)پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما زلفی بخاری نے امریکی ایوانِ نمائندگان کی ٹام لینٹوس ہیومن رائٹس کمیشن کے سامنے پیش ہو کر پاکستان میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں، سیاسی انتقام، میڈیا پر پابندیوں اور عدالتی آزادی پر دباؤ سے متعلق تفصیلی گواہی دی۔
امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں 15 جولائی کو ہونے والی کانگریسی سماعت میں پی ٹی آئی رہنما اور سابق وزیر مملکت زلفی بخاری نے شرکت کی، جہاں انہوں نے پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں جمہوری اقدار کو کمزور کیا جا رہا ہے اور ریاستی ادارے سیاسی مخالفین کو دبانے کیلئےاستعمال ہو رہے ہیں۔
زلفی بخاری نے دعویٰ کیا کہ چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ کو 23 گھنٹے روزانہ تنہائی میں قید رکھا جاتا ہے، جو بین الاقوامی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے اہلِ خانہ پر جھوٹے مقدمات قائم کر کے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
انہوں نے میڈیا پر قدغن، صحافیوں کی گرفتاریوں اور اختلافِ رائے کو دبانے کے اقدامات کو جمہوری عمل کے خلاف قرار دیا۔ فروری 2024 کے عام انتخابات کو “غیر شفاف” اور “سیاسی مداخلت سے آلودہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں انتخابی عمل کو جان بوجھ کر متاثر کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں پر بھی شدید دباؤ ہے اور عدالتی فیصلے ریاستی احکامات کی روشنی میں دیے جا رہے ہیں، جو عدلیہ کی خودمختاری کیلئےخطرہ ہے۔
زلفی بخاری نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان میں جمہوریت، انسانی وقار اور آزاد عدلیہ کیلئے آواز بلند کرے۔ انہوں نے کہا”ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم پاکستان کو آمریت کے اندھیروں میں جانے دیتے ہیں یا اُن لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں جو جمہوریت، وقار اور انصاف کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔”
اجلاس کی صدارت امریکی کانگریس مین کرسٹوفر اسمتھ نے کی، جبکہ دیگر شرکاء میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بین لنڈن، پرسیئس اسٹریٹیجیز کے جیرڈ جنسر، اور افغانستان امپیکٹ نیٹ ورک کے صدیق امینی شامل تھے۔

