پاکستان ایک بار پھر دنیا کو ایک ایسی حقیقت کی طرف متوجہ کر رہا ہے جسے عالمی برادری جانتے بوجھتے نظرانداز کرتی آ رہی ہے۔ اسلام آباد میں حالیہ خودکش حملے کے بعد گزشتہ روز وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے سامنے آنے والی تفصیلات محض ایک سیکیورٹی بریفنگ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ عالمی انتباہ ہیں۔ ان کے مطابق حملے کی مکمل منصوبہ بندی داعش خراسان نے افغانستان میں بیٹھ کر کی، اس کا ماسٹر مائنڈ پاکستان کی حراست میں ہے، اور سی ٹی ڈی نے اس نیٹ ورک سے وابستہ تمام سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ انکشافات ایک بار پھر اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ دہشت گردی اب کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ ایک منظم، سرحد پار اور ریاستی سرپرستی میں پنپنے والا خطرہ بن چکی ہے۔
وزیر داخلہ کے مطابق اس وقت کم از کم اکیس دہشت گرد تنظیمیں افغانستان کی سرزمین سے سرگرمِ عمل ہیں۔ یہ تنظیمیں نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن، تجارت اور انسانی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ سرگرمیاں کسی خفیہ جزیرے پر نہیں بلکہ دنیا کی کھلی نظروں کے سامنے جاری ہیں۔ اس کے باوجود عالمی طاقتوں کی خاموشی اس تاثر کو تقویت دیتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اصولی مؤقف اب جغرافیائی سیاست اور مصلحتوں کے تابع ہو چکا ہے۔
سب سے تشویشناک انکشاف دہشت گردی کی فنڈنگ سے متعلق ہے۔ وزیر داخلہ کے مطابق داعش اور دیگر تنظیموں کی مالی معاونت بھارت کی جانب سے کی جا رہی ہے۔ انٹیلی جنس معلومات کے مطابق دہشت گردوں کو دی جانے والی رقوم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے: مثلاً جو عناصر پہلے پانچ سو ڈالر پر کام کر رہے تھے، انہیں اب پندرہ سو ڈالر تک دیے جا رہے ہیں، اور گزشتہ کچھ عرصے میں ہونے والی علاقائی و سفارتی ناکامیوں کے بعد بھارت نے دہشت گردی کیلئے مختص بجٹ میں تین گنا اضافہ کیا ہے۔ یہ محض سیاسی بیانات نہیں بلکہ وہ دعوے ہیں جن کے پیچھے قابلِ تصدیق شواہد موجود ہیں، جنہیں عالمی فورمز پر سنجیدگی سے پرکھا جانا چاہیے۔
ایک اور اہم پہلو دہشت گردوں کی ڈیجیٹل موجودگی ہے۔ افغانستان میں موجود نیٹ ورکس سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھرتی، فنڈنگ، رابطہ کاری اور پروپیگنڈا کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ پاکستان نے ان پلیٹ فارمز کو واضح پیغام دیا ہے کہ دہشت گردی سے منسلک اکاؤنٹس کو بند کیا جائے، بصورتِ دیگر ریاست اپنے قومی مفاد کے تحفظ کے لیے دیگر قانونی اور تکنیکی آپشنز استعمال کرے گی۔ یہ مسئلہ محض اظہارِ رائے کی آزادی کا نہیں بلکہ عالمی ڈیجیٹل گورننس اور ذمہ داری کا امتحان ہے۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو ان پلیٹ فارمز کے دوہرے معیار ہیں؛ معمولی سی بے ضرر عام پوسٹ کو تو یہ خلافِ پالیسی قرار دے کر اکاؤنٹ بلاک کر دیتے ہیں، لیکن انتہا پسندی، دہشت گردی اور تشدد کی ترغیب دینے والوں کو کھلی چھٹی دی جاتی ہے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ جانی اور مالی قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں شہری اور سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، معیشت کو کھربوں ڈالر کا نقصان پہنچا، اور معاشرتی استحکام کو شدید دھچکا لگا۔ جب افغانستان سے دہشت گردی پوری دنیا کو متاثر کر رہی تھی تو پاکستان فرنٹ لائن اسٹیٹ کے طور پر کھڑا رہا، عالمی اتحاد کا حصہ بنا، اور فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ تاہم جب عالمی طاقتوں کے مقاصد پورے ہو گئے تو پاکستان کو تنہا چھوڑ دیا گیا۔ وہ دہشت گرد جو کل عالمی خطرہ تھے، آج محض “پاکستان کا مسئلہ” قرار دے دیے گئے۔ نتیجتاً پاکستان آج بھی روزانہ کی بنیاد پر قربانیاں دے رہا ہے، جبکہ عالمی ضمیر خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف اخلاقی طور پر ناقابلِ دفاع ہے بلکہ عملی طور پر بھی خطرناک ہے، کیونکہ دہشت گردی خلا میں نہیں رہتی—یہ پھیلتی ہے۔
وزیر داخلہ کا یہ کہنا کہ “جب دنیا کو چوٹ لگے گی تو پھر سمجھ آئے گی” محض ایک جذباتی جملہ نہیں بلکہ تاریخ کا نچوڑ ہے۔ ماضی گواہ ہے کہ جب دہشت گردی کو علاقائی مسئلہ سمجھ کر نظرانداز کیا گیا تو وہ عالمی وبا بن گئی، اور بعد میں پوری دنیا کو اس کی قیمت چکانا پڑی۔ آج بھی یہی غلطی دہرائی جا رہی ہے۔ بھارت کی جانب سے کینیڈا اور دیگر ممالک میں مبینہ دہشت گرد کارروائیوں پر وہاں آواز اٹھائی گئی، تحقیقات ہوئیں، اور سفارتی دباؤ ڈالا گیا۔ لیکن جب پاکستان کے پاس بھارت کے خلاف دہشت گردی میں معاونت کے شواہد موجود ہیں تو عالمی خاموشی ایک واضح دہرا معیار ظاہر کرتی ہے۔
آج وقت کا تقاضا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ردِعمل عالمی، غیرجانبدار اور اصولی ہونا چاہیے۔ اقوامِ متحدہ، ایف اے ٹی ایف اور دیگر متعلقہ عالمی ادارے افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس، ان کی فنڈنگ چینلز، اور بھارت سمیت ہر اس ریاست کے کردار کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کریں جو دہشت گردی کو بطور آلہ استعمال کر رہی ہے۔ سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی محض بیانات کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ اگر اس مرحلے پر بھی آنکھیں بند رکھی گئیں تو کل جب یہ آگ مزید سرحدیں عبور کرے گی تو شاید واقعی بہت دیر ہو چکی ہوگی۔ پاکستان نے ایک بار پھر بروقت خبردار کر دیا ہے۔ اب فیصلہ عالمی برادری کے ہاتھ میں ہے کہ وہ تاریخ سے سبق سیکھتی ہے یا ایک بار پھر خاموشی کو اپنی پالیسی بنائے رکھتی ہے۔

