پٹرول کےچار جہاز کراچی پہنچ گئے،متبادل راستے خام تیل کی درآمد شروع

کراچی/ریاض (نمائندہ خصوصی) مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد پاکستان نے بحیرۂ احمر کے راستے خام تیل کی درآمد شروع کر دی ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کا ایک جہاز سعودی عرب کی بندرگاہ ینبع پہنچ چکا ہے اور 73 ہزار ٹن خام تیل لے کر جمعرات کو کراچی کیلئے روانہ ہوگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پی این ایس سی کا ایک اورجہاز شالامار بھی فجیرہ بندرگاہ سے تیل لوڈ کرنے کے بعد کراچی کی جانب روانہ ہو چکا ہے۔شپنگ ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث کئی جہاز متاثر ہوئے ہیں جبکہ پی این ایس سی کے دو جہاز کراچی کے قریب اور ایک چارٹر بندرگاہ پر صورتحال کے باعث رکے ہوئے ہیں۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد وفاقی حکومت نے بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 55 روپے اضافہ کر دیا ہے۔نئے نرخوں کے مطابق پیٹرول کی قیمت 266 روپے 17 پیسے سے بڑھا کر 321 روپے 17 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت 280 روپے 86 پیسے سے بڑھا کر 335 روپے 86 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔حکام کے مطابق منگل کو پٹرول سے بھرے چار جہاز بھی پورٹ قاسم پہنچے، جن میں سے تقریباً 37 ہزار ٹن پیٹرول اتارا جا چکا ہے جبکہ مزید 50 ہزار ٹن کی منتقلی جاری ہے۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے، جو عالمی سطح پر تیل کی اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔ذرائع کے مطابق اس آبی گزرگاہ کے ذریعے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے اور حالیہ کشیدگی کے بعد اس راستے سے شپنگ تقریباً معطل ہو کر رہ گئی ہے۔