اسلام آباد (فنانشل ٹائمز) — پاکستان نے امریکا کے حکام کے ساتھ ایک غیر معمولی تجویز پر بات چیت کی ہے جس کے تحت بحیرہ عرب کے ساحل پر واقع پسنی میں ایک نئی بندرگاہ تعمیر اور چلائی جا سکتی ہے، جس سے امریکا کو اس اسٹریٹیجک خطے میں اثرورسوخ حاصل ہوگا۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق یہ منصوبہ، جو ابھی تک حکومت کی باضابطہ پالیسی نہیں ہے، امریکی سرمایہ کاروں کو بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتا ہے تاکہ وہاں سے پاکستان کے کیمیائی اور قیمتی معدنی ذخائر تک رسائی حاصل کی جا سکے۔پسنی بندرگاہ گوادر سے تقریباً 70 میل اور ایران کی سرحد سے 100 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔
دستاویز کے مطابق بندرگاہ کی تعمیر پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی، جسے پاکستانی وفاقی حکومت اور امریکی ترقیاتی مالیاتی ادارے کی مشترکہ سرمایہ کاری سے پورا کرنے کی تجویز ہے۔منصوبے میں ایک نئی ریل لائن بھی شامل ہے جو ملک کے اندرونی حصوں سے معدنیات جیسے تانبا (Copper) اور اینٹمونی (Antimony) کو بندرگاہ تک پہنچانے میں مدد دے گی۔
یہ تجویز پاکستان کی طرف سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ہونیوالی ملاقات سے قبل شیئر کی گئی تھی۔ تاہم، ایک سینئر امریکی اہلکار نے بتایا کہ اس ملاقات میں اس منصوبے پر کوئی باضابطہ بات نہیں ہوئی۔
ذرائع کے مطابق پاکستان نے امریکا کے ساتھ تعلقات کو ازسرِ نو مستحکم کرنے کیلئےکئی تجاویز پیش کی ہیں، جن میں افغانستان میں داعش خراسان کے خلاف تعاون، ٹرمپ کی غزہ امن تجویز کی حمایت، اور معدنی وسائل تک امریکی رسائی شامل ہیں۔
حالیہ مہینوں میں امریکا اور بھارت کے درمیان تعلقات میں تناؤ کے بعد واشنگٹن نے اسلام آباد کے ساتھ کھلے عام روابط میں اضافہ کیا ہے۔صدر ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان فائر بندی کا سہرا اپنے سر لیا تھا، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف اور جنرل منیر نے ان کے کردار کو سراہتے ہوئے انہیں نوبیل امن انعام کیلئےنامزد بھی کیا تھا۔اس کے بعد وائٹ ہاؤس میں جنرل منیر اور شہباز شریف نے امریکی صدر کو پاکستان کے معدنی نمونوں کا ایک خصوصی تحفہ پیش کیا۔
دستاویز کے مطابق “پسنی کی ایران اور وسط ایشیا سے قربت امریکا کو تجارت اور سکیورٹی کے لحاظ سے متبادل راستہ فراہم کر سکتی ہےجبکہ یہ چین کے گوادر منصوبے کا توازن بھی قائم کرے گی۔”منصوبے میں واضح کیا گیا کہ یہ بندرگاہ امریکی فوجی اڈے کے طور پر استعمال نہیں ہوگی بلکہ تجارتی اور صنعتی مرکز ہوگی۔
پاکستان کے روایتی اتحادی چین نے حالیہ برسوں میں گوادر بندرگاہ، سی پیک اور عسکری سازوسامان کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ تاہم پاکستانی مشیروں کے مطابق اب ملک کو اپنی خارجہ پالیسی میں تنوع لانا ہوگا۔
ایک مشیر کے مطابق”ہمیں چین کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھتے ہوئے امریکا کے ساتھ معاشی تعلقات بڑھانے کی ضرورت ہے۔”
امریکی کمپنی US Strategic Metals (USSM) نے ستمبر میں پاکستان کے عسکری انجینئرنگ ادارے کے ساتھ معدنیات کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے۔کمپنی کے ڈائریکٹر مائیک ہولومون نے کہا”پسنی میں بندرگاہ کا قیام ایک منطقی قدم ہے کیونکہ یہ قدرتی طور پر گہرے پانی کی بندرگاہ ہے اور اسے ریکو ڈک کانوں سے ریلوے کے ذریعے جوڑا جا سکتا ہے۔”
گزشتہ ماہ پاکستان نے امریکا کو پہلی بار دو ٹن سے کم قیمتی معدنیات تانبا، اینٹمونی اور نیوڈیمیم برآمد کیں۔ یہ اقدام اس وقت آیا جب چین نے گزشتہ سال اینٹمونی کی امریکا کو فروخت پر پابندی عائد کر دی تھی۔
پاکستان کی معدنیات کی صنعت فی الحال ملکی جی ڈی پی کا صرف 3 فیصد ہے، مگر حکام کے مطابق اس میں بے پناہ امکانات ہیں۔حسین عابدی، چیئرمین پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ، نے کہا”یہ امریکا کے ساتھ تعلقات کی بحالی کا آغاز ہے لیکن اس بار سکیورٹی نہیں بلکہ معیشت کے ذریعے۔”

