اسلام آباد (نامہ نگار)وفاقی حکومت نے ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت (PCA) کے حالیہ فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، جس میں سندھ طاس معاہدے کی عمومی تشریح سے متعلق پاکستان کے مؤقف کی توثیق کرتے ہوئے قرار دیا گیا کہ بھارت عام طور پر مغربی دریاؤں کا پانی پاکستان کے لیے بلا روک ٹوک بہنے دے۔
عالمی ثالثی عدالت نے 8 اگست کو سنایا گیا فیصلہ اپنی ویب سائٹ پر جاری کیا، جو پاکستان کی جانب سے 19 اگست 2016 کو دائر کردہ ثالثی درخواست کے نتیجے میں سامنے آیا۔ عدالت نے کہا کہ یہ فیصلہ حتمی ہے اور فریقین پر لازم ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ آرٹیکل 3 کے تحت مغربی دریاؤں کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ان کا پانی پاکستان کے لیے بہنے دیا جائے، صرف محدود استثنیٰ جیسے پن بجلی پیدا کرنے کی گنجائش کے تحت بھارت کو استعمال کی اجازت ہے، اور یہ استثنیٰ سخت تشریح کے تابع ہے۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ رن آف دی ریور ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹس کا ڈیزائن اور آپریشن معاہدے کی شرائط کے مطابق ہونا چاہیے، نہ کہ بھارت کی یکطرفہ تشریح کے تحت۔
ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ اس وقت خاص اہمیت رکھتا ہے جب بھارت نے حال ہی میں سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کیا اور ثالثی عدالت کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا تھا۔ ترجمان نے کہا کہ عالمی عدالت کا یہ فیصلہ پاکستان کے تاریخی مؤقف کی تائید اور بین الاقوامی قانون کی فتح ہے۔
پاکستان نے واضح کیا کہ وہ سندھ طاس معاہدے پر مکمل عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے اور توقع رکھتا ہے کہ بھارت فوری طور پر معاہدے کے معمول کے طریقہ کار کو بحال کرے گا اور فیصلے پر دیانت داری سے عمل کرے گا۔

