پاکستان کی اٹھان اور میرا یقین

السلام علیکم!
گزشتہ رات میں نے سونے سے پہلے ٹی وی پر ایک خبر دیکھی اور آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وزیرِاعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد ایک ساتھ بیٹھے، اسٹریٹجک پارٹنرشپ معاہدے پر دستخط کر رہے تھے۔ دل نے کہا: ’’یہ وہ دن ہے جس کا برسوں سے انتظار تھا۔‘‘

آج ہم غربت کی بات کرنے جا رہے ہیں۔ غربت کا مطلب ہے کہ ان کی تعلیم، روزگار، صحت، ان کا چلنا، پھرنا، اٹھنا بیٹھنا، ان کے خاندانوں کا پارکوں میں جانا، بازاروں میں آنا جانا سب متاثر ہو جاتے ہیں۔

جو لوگ یہ سب دیکھ رہے ہیں انہوں نے اصل غربت نہیں دیکھی۔ اور اللہ کی قسم، وہ وقت آ گیا ہے۔ وہ وقت آ گیا ہے۔

ہمارے کچھ دوست ایسی باتیں کرتے ہیں، وہ انہیں زیادہ پسند نہیں آتیں۔ وہ کہتے ہیں، جناب، میں جاپان میں تین سال سے ہوں۔ تقریباً تین سال۔ اور اسی دن سے میرے دل میں ایک خیال پیدا ہوا کہ یہی وہ شخص ہے جو پاکستان کو لے کر آگے جائے گا۔

باقی جو اشرافیہ ہے، اس میں سیاستدان ہیں، فوجی ہیں، بیوروکریسی ہے، فیڈرل لا ہے، کچھ بزنس ٹائیکونز ہیں، کچھ مافیاز ہیں۔ لیکن جناب، یہ شخص ابتدا سے ہی، تقریباً تین ماہ پہلے ہی، مجھے لگا کہ یہی وہ شخص ہے جو لے کر چلے گا۔ آج جو بھی نقشہ کھینچا جا رہا ہے، وہ اسی شخص کی وجہ سے ہے۔ باقی سب ٹھیک ہے۔

ہمارے وزیراعظم پاکستان نے بھی الفاظ استعمال کیے کہ ریاستی حکمتِ عملی میں دیکھ سکتے ہیں کہ وہ کس طرح اس شخص کی حمایت کر رہے ہیں۔ اور یہ حمایت لازمی ہے۔ کیونکہ وہی اس ملک کو لے کر چل رہا ہے۔

جناب، وہ وقت بھی آ گیا ہے۔ دس مہینے بعد 1971 کے حملے کے بعد، ہم نے اس ملک سے بدلہ لیا ہے۔ اور آج ہم نے بدلہ لیا ہے، وہ بدلہ جس کی وجہ سے سائنس اور ٹیکنالوجی کہاں پہنچ گئی ہے۔ جناب، ہم نے ایک بڑی جنگ جیت لی ہے۔ ہم نے بھارت سے بڑا بدلہ لے لیا ہے۔ ہمارا ازلی دشمن، جو ہمیں دیکھ نہیں سکتا۔

آج دنیا میں اور بھی دشمن ہیں جیسے ٹی ٹی پی، بی ایل اے، طالبان وغیرہ۔ یہ کیسے لوگ ہیں جو یہاں بیٹھے ہیں؟ ان کے اپنے کاروبار ہیں، اپنے دفتر ہیں۔ آپ انہیں ڈالر دیں تو جو چاہیں کروا لیں۔ خیر، وہاں نہیں جانا چاہیے۔

جناب، جو ہم نے دستخط کی تقریب میں دیکھا، میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ ایمان داری سے کہتا ہوں، آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اے اللہ، یہ وقت آنا ہی چاہیے تھا۔ اتنی عزت کے ساتھ وہ ایک ایسے ملک کے ساتھ دستخط کر رہا ہے، جو ایک سال اور آدھا پہلے ہمارے دشمن کے ساتھ 100 ارب ڈالر کا منصوبہ سائن کر رہا تھا، مودی کے ساتھ بیٹھا ہوا۔

اور مودی کی باڈی لینگوئج دیکھ کر لگتا تھا کہ جیسے ہم غریب ہیں۔ وہ کہنا چاہتا تھا: دیکھو، میں ہندو ہوں، تم مسلمان ہو۔ جو بھی کہنا چاہتا تھا، میں وہ الفاظ استعمال نہیں کرنا چاہتا۔

مجھے اس دستخطی تقریب کو دیکھ کر بہت اچھی نیند آئی۔ آج مجھے نظر آ رہا ہے کہ ان شاء اللہ اس ملک کی زراعت بہتر ہوگی، رئیل اسٹیٹ بہتر ہوگا، برآمدات بہتر ہوں گی، صنعتیں چلیں گی اور سب کچھ آگے بڑھے گا۔

مجھے دکھائی دے رہا ہے کہ ایک قوت پاکستان کے ساتھ شامل ہو گئی ہے۔ کیوں شامل ہوئی؟ وجہ پاکستان کی فوج اور ایٹمی طاقت ہے۔ اس کے پیچھے سیاسی خاندان نہیں ہیں، نہ بیوروکریسی ہے، نہ ہماری بداعمالیاں ہیں۔

صرف ایک وجہ ہے اور وہ ہے ادارہ۔ اور ادارہ بھی ایٹمی طاقت کے ساتھ۔

ہمارے کچھ دوست کہتے ہیں کہ نہیں نہیں، پی ای ایف نے جنگ جیت لی ہے۔ میں کہتا ہوں پی ای ایف کا ائیر چیف یعنی عمران خان ہے۔ اس کا ڈپٹی ائیر چیف علی امین گنڈاپور ہے۔ خدا کیلئے! وہ ایک ادارہ ہے۔ وہ پاکستان کا اتنا بڑا ادارہ ہے کہ اگر کوئی کچھ مان بھی لے تو وہ نہیں مانے گا۔

معاف کیجیے، میں کسی منفی بات میں نہیں جانا چاہتا۔ میرے سامنے ایک ہی تصویر ہے، وہ تصویر دستخط کی ہے۔ آج پاکستان میں زراعت بھی نظر آئے گی، صنعت بھی نظر آئے گی، یونیورسٹیاں بھی نظر آئیں گی، برآمدات بھی دگنی ہوں گی۔ پاکستان کا اسٹاک مارکیٹ انڈیکس جو اس وقت تقریباً ایک لاکھ پچپن ہزار پر ہے، وہ بھی دگنا ہوتا نظر آ رہا ہے۔

یہ کوئی دور کی بات نہیں، چند دنوں کی بات ہے۔ ’رعد‘تقریب کے بعد مجھے سب کچھ وعدہ وفا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

اور میں اپنے ملک کے دوستوں کو، اپنے قریبی ساتھیوں کو، سب کو ’رعد‘ دستخطی تقریب پر مبارکباد دیتا ہوں۔ یہ پاکستان کے اٹھان کا لمحہ ہے اور ان شاء اللہ ہم اپنی زندگی میں یہ سب حقیقت بنتا دیکھیں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں