پاکستان کی سیاسی پارٹیاں — نعرہ جمہوریت کا، نظام بادشاہت کا

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی بیوی اور بہن سے اختلافات کی خبروں کے بعد علی امین گنڈاپور کو خیبر پختونخوا کی وزارتِ اعلیٰ سے ہٹا دیا گیا۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور دیگر رہنماؤں نے بڑے فخر سے اس فیصلے کو “خان کا حکم” قرار دیا۔ خود گنڈاپور نے بھی “خان کا حکم” مانتے ہوئے استعفے کا اعلان کر دیا۔

اس “حکم” کے اجرا سے قبل نہ پارٹی کی کسی مرکزی یا صوبائی کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا، نہ اُن ارکانِ صوبائی اسمبلی سے کوئی مشاورت کی گئی جنہوں نے گنڈاپور کو وزیرِ اعلیٰ منتخب کیا تھا اور جو اگلے وزیرِ اعلیٰ کو بھی منتخب کریں گے۔ بس ایک شخص نے حکم دیا ، اور باقی سب نے وفادار ملازمین کی طرح اُس کی تعمیل کر دی۔

یہی ہماری سیاست کا المیہ ہے۔ پارٹیوں کے بڑے بڑے نام، آئین اور مشاورتی ادارے محض نمائشی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر جماعت کے اندر ایک شخص، ایک خاندان یا ایک حلقۂ اثر ہی سب کچھ ہے۔ فیصلے اداروں میں نہیں، شخصیات کے اشاروں پر ہوتے ہیں۔ یہاں رہنما رہنمائی نہیں کرتے بلکہ مطلق العنان بادشاہوں کی طرح شاہی فرمان جاری کرتے ہیں، جن سے اختلاف کی نہ گنجائش ہوتی ہے اور نہ کسی میں جُرأت۔ ہماری ان نام نہاد جمہوری پارٹیوں کی پالیسی بالکل سادہ ہے: “ہر حکم مانو، ورنہ پارٹی میں تمہاری کوئی جگہ نہیں۔”

کسی بھی حقیقی سیاسی رہنما یا کارکن کے لیے یہ فخر نہیں بلکہ شرمندگی کا مقام ہونا چاہیے کہ وہ بغیر کوئی دلیل سنے، اپنی رائے دیے بغیر، محض ایک شخص کے “حکم” کی اندھی تقلید کرے۔

تحریکِ انصاف، جس جماعت نے نئی سیاست، میرٹ، ادارہ جاتی شفافیت اور موروثی سیاست سے اجتناب کا نعرہ لگایا، چند ہی برسوں میں خود شخصیت پرستی کا شکار ہو گئی۔ اندرونی انتخابات رسمی کارروائی بن گئے، اور فیصلے صرف ایک فرد کی مرضی سے طے ہونے لگے۔ پارٹی عہدے دار خوشامد اور “جی حضوری” کی بنیاد پر نامزد کیے گئے، جبکہ اراکینِ اسمبلی اور وزراء خود کو عوام کے نہیں بلکہ “خان صاحب” کے سامنے جوابدہ سمجھتے ہیں۔ اختلاف یا مشورہ سیاسی بصیرت نہیں بلکہ بغاوت قرار پاتا ہے۔

یہاں تک کہ جب پارٹی چیئرمین قید میں ہیں، تب بھی زمینی حقائق کے مطابق پارٹی عہدے داروں اور ارکانِ اسمبلی کے باہمی مشورے کے بجائے “حکم” ان ہی کی طرف سے آتا ہے، اور چاہے وہ کتنا ہی غلط کیوں نہ ہو، سب اس پر عمل کرتے ہیں۔ یہ سب پاکستان کی اس سیاسی ذہنیت کی عکاسی ہے جو شخصی اختیار کو ادارہ جاتی فیصلہ سمجھنے لگی ہے۔

عمران خان موروثی سیاست کو برا کہتے رہے، دوسروں کو طعنے دیتے رہے، لیکن جب وہ خود اقتدار میں آئے تو ان کی اہلیہ حکومتی معاملات میں پوری طرح ملوث رہیں، اور بعد ازاں پارٹی امور اور سینیٹ انتخابات کے ٹکٹوں میں بھی بھرپور مداخلت کرتی رہیں۔ یہی حال ان کی بہنوں کا ہے۔ اسی خاندانی مداخلت کے نتیجے میں آج تحریکِ انصاف گروپ بندیوں اور داخلی تقسیم کا شکار ہے۔

لیکن یہ کہانی صرف تحریکِ انصاف تک محدود نہیں۔ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل)، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (اچکزئی)، بلوچستان عوامی پارٹی اور ایم کیو ایم سمیت بڑی چھوٹی تمام جماعتوں میں جمہوریت محض ایک نعرہ بن چکی ہے۔

مسلم لیگ (ن) میں قیادت شریف خاندان کے اردگرد سمٹی ہوئی ہے۔ نواز شریف خود پارٹی قائد ہیں، بھائی شہباز شریف وزیرِ اعظم، بیٹی مریم نواز وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور باضابطہ طور پر پارٹی کی وارث قرار دی جا رہی ہیں۔ حمزہ شہباز بھی پارٹی میں طاقتور حیثیت رکھتے ہیں۔ اختلافِ رائے کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔ اختلاف کرنے والوں کو یا تو خاموش کر دیا جاتا ہے یا وہ خود کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔ آج پارٹی کے فیصلے پارلیمانی بورڈ یا ورکنگ کمیٹی میں نہیں بلکہ جاتی عمرہ کے ڈرائنگ روم میں ہوتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کبھی نظریاتی اور عوامی تحریک تھی، مگر اب وہ بھی دیگر جماعتوں سے مختلف نہیں رہی۔ اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے باقی صوبوں میں اس کا وجود سکڑ چکا ہے۔ سندھ میں پارٹی اقتدار میں ضرور ہے، مگر نظریے کے بجائے خاندان کی وفاداری پر قائم ہے۔ اندرونی انتخابات رسمی نوعیت کے ہیں، مرکزی اور صوبائی کمیٹیاں ضرور ہیں مگر فیصلے بلاول ہاؤس کی چار دیواری سے باہر نہیں جاتے۔ پیپلز پارٹی کا “عوامی” رنگ اب ایک جاگیردارانہ ڈھانچے میں ڈھل چکا ہے، جہاں خاندانی وفاداری ہی اصل معیار ہے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) میں تمام اختیار مولانا فضل الرحمان کے ہاتھ میں مرکوز ہے، جبکہ اُن کے بھائیوں اور بیٹوں کا بھی جماعت پر خاصا اثر و رسوخ ہے۔ سیاسی فیصلے، احتجاج یا اتحاد سب انہی کی صوابدید پر ہوتے ہیں۔ مذہبی شوریٰ اور مجلسِ عاملہ محض رسمی ادارے بن چکے ہیں۔ جو اختلاف کرے، وہ یا تو پارٹی سے نکال دیا جاتا ہے یا غیر فعال کر دیا جاتا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی میں قیادت دہائیوں سے ایک ہی خاندان کے پاس ہے۔ اب ایمل ولی پارٹی کے سربراہ ہیں اور تمام اختیارات کے مالک بھی ـ۔ قیادت کے انتخابات بظاہر ہوتے ہیں مگر کوئی دوسرا امیدوار سامنے نہیں آتا۔ وہ پارٹی جو کبھی پختونوں کی سیاسی پہچان تھی، آج انہی پالیسیوں کے باعث چند مخصوص حلقوں تک محدود ہو چکی ہے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) بھی خاندانی سیاست کی ایک اور مثال ہے۔ بانی عطااللہ مینگل کے بعد اب اختر مینگل قیادت سنبھالے ہوئے ہیں، اور ہر فیصلہ انہی کے گرد گھومتا ہے۔ یہی حال پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (اچکزئی) کا ہے، جہاں قیادت بھی نسل در نسل ایک ہی خاندان کے ہاتھ میں رہی۔

جہاں موروثی سیاست نہیں، وہ پارٹیاں بھی کبھی جمہوری نہیں رہیں۔ ایم کیو ایم کا ڈھانچہ ہمیشہ الطاف حسین کی شخصیت کے گرد مرکوز رہا۔ فیصلے لندن سے آتے اور کراچی میں نافذ ہوتے۔ ایک ٹیلی فون کال پر سب کو بیٹھنا، کھڑا ہونا، حتیٰ کہ گالیاں سننا بھی معمول کی بات تھی، مگر کسی میں “بھائی” سے اختلاف کی جُرأت نہیں تھی۔ الطاف حسین کے بعد بھی پارٹی کا مزاج نہیں بدلا ، چہرے بدل گئے مگر طرزِ سیاست وہی رہا۔ پہلے “بھائی” کے اشارے پر اٹھنے بیٹھنے والے اب وہی کچھ اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر کرتے ہیں۔

بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) اس سارے نظام کی نئی شکل ہے۔ یہ خاندانی نہیں بلکہ انجینئرڈ جماعت ہے، جو 2018 کے انتخابات سے چند ماہ قبل اچانک وجود میں لائی گئی۔ بغیر عوامی بنیاد کے یہ فوراً اقتدار میں شریک ہو گئی۔ اس کے قیام کو عام طور پر اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی انجینئرنگ سے جوڑا جاتا ہے۔ اس جماعت کا نہ کوئی نظریاتی پس منظر ہے نہ جمہوری ڈھانچہ۔ وفاداریاں عوام سے نہیں بلکہ اقتدار کے مراکز سے جڑی ہیں۔

یوں پاکستان کی بیشتر سیاسی جماعتیں، چاہے قومی ہوں یا علاقائی، سیاسی ہوں یا مذہبی، اب قبائلی یا شخصی ڈھانچوں میں بدل چکی ہیں۔ ان کے سربراہ دراصل سردار یا بادشاہوں کی طرح ہیں، اور باقی سب اُن کے تابع رعایا۔ عہدے، القابات اور مشاورتی ادارے محض نمائشی ہیں۔ ان میں جمہوریت نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ فیصلے اداروں میں نہیں بلکہ اشاروں پر ہوتے ہیں، اور رہنما رہنمائی نہیں کرتے بلکہ حکم صادر کرتے ہیں۔

اگر جمہوریت کو مضبوط بنانا ہے تو اصلاح کا آغاز خود سیاسی جماعتوں کے اندر سے ہونا چاہیے۔ سیاسی پارٹیاں باقاعدہ ممبر سازی کریں، اور ایک آزاد و غیر جانب دار اتھارٹی کی نگرانی میں تمام جماعتوں کے شفاف اندرونی انتخابات کرائے جائیں۔ الیکشن کمیشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے اور قیادت کو اپنے کارکنوں کے سامنے جواب دہ بنائے۔ جو جماعت اختلاف کو دبائے یا اندرونی جمہوریت سے انکار کرے، اُس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

پاکستان کا اصل مسئلہ قیادت کا نہیں بلکہ ادارے کے زوال کا ہے۔ ہم نے ایسی سیاسی جماعتیں پیدا نہیں کیں جو اپنے بانیوں کے بعد بھی زندہ رہ سکیں۔ شریف ہوں یا زرداری، عمران خان ہوں یا فضل الرحمان، اختر مینگل ہوں یا ایمل ولی ، سب اپنی جماعتوں میں بادشاہ ہیں، جمہوری سربراہ نہیں۔ جب تک پارٹیوں کے اندر جمہوریت نہیں آئے گی، ملک میں جمہوریت صرف ایک نعرہ رہے گا۔ یہاں نظام آئین کے نہیں، حکم کے تابع ہے اور یہی وہ تلخ حقیقت ہے جو ریاست کے سیاسی ڈھانچے کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں