پاکستان کی طرف سے بھرپور اننگز کا انتظار

جنگ ستمبر 1965ء پاکستان کی حربی تاریخ کا ایک سنہرا باب، آج سے ساٹھ برس قبل کی بات ہے، ان ساٹھ برسوں میں دو نئی نسلیں جوان ہوئی ہیں، اس وقت پاکستان کی آبادی دس کروڑ نفوس پر مشتمل تھی۔ اس زمانے کے پاکستان کی نسبت آج کا پاکستان نصف ہے۔ آبادی پچیس کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔ کبھی ہمارا انحصار تھری ناٹ تھری رائفل پر تھا، ایم پی فائیو گن خال خال تھی۔ آج ہمارے پاس ایٹم بم ہے، میزائل ہیں جو کئی سو کلومیٹر تک مار کر سکتے ہیں۔ آواز سے زیادہ تیز رفتار فائٹر جہاز ہیں جو اپنے تیار کردہ ہیں اور دنیا کے ترقی یافتہ ترین ممالک کے تیار کردہ جہازوں کو گرانے کی صلاحیت ثابت کر چکے ہیں، جہاز اڑانے والوں کی صلاحیت پہلے بھی قابل رشک تھی۔ آج اس سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے، فائٹر جہاز سڑکوں پر لینڈ ہو رہے ہیں اور ٹیک آف ہو رہے ہیں، ایٹمی ہتھیار لے جانے والی آبدوزیں ہیں اور گہرے سمندر کی تہوں میں چھپی دشمن کی آبدوزوں کو دیکھنے کی صلاحیت رکھنے والے جہاز بھی ہیں۔ وطن کی حفاظت کیلئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کا جذبہ ہر افسر ہر جوان کے دل میں موجزن ہے۔ قوم کے ترجمان نے خوب کہا دشمن کو اپنی زندگی جس قدر عزیز ہے ہمیں شہادت کی آرزو اس سے بہت زیادہ ہے۔ ان جذبوں کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔
نصف صدی سے زائد عرصے میں بہت کچھ بدل گیا ہے، چال ڈھال، مشاغل، لباس، فیشن، پسند ناپسند، کھانا پینا، سونا جاگنا، رونا دھونا، گلے لگانا، گلے سے اتارنا، کسی کی یاد میں آہ بھرنا کسی کو بھول جانا، اشیائے صرف کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے ساتھ ساتھ زمین و زیور عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوئے ہیں۔ انسان کی قدر میں کمی آئی ہے جو شئے ان ساٹھ برسوں میں نہیں بدلی وہ لا ابالی مزاج ہے۔ نصف صدی قبل بھی جہازوں کی ڈاگ فائٹ دیکھنے کے لئے لوگ گھروں کی چھتوں پر چڑھے نظر آئے۔ آج احمد پور شرقیہ میں میزائل گرا تو لوگ اس جگہ سے دور بھاگنے کی بجائے ادھر ہی دوڑتے نظر آئے۔ کوئی خوف وہراس نہ تھا، مشکل میں گھرے افراد کی مدد کا جذبہ موت کے خوف پر غالب تھا، بھارت کی طرف سے نصف شب سے ذرا پہلے پاکستان میں آٹھ مختلف جگہوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان میں آخری اطلاعات آنے تک اکتیس افراد شہید اور اکہتر زخمی ہوئے۔ مساجد شہید ہوئیں، ڈیم کو نقصان پہنچا، مرد و خواتین کے ساتھ ساتھ کمسن بچے شہید ہوئے، صبح ہوئی تو ملک بھر میں کوئی کہرام نہ تھا۔ زندگی رواں دواں تھی، ہوٹلوں اور تفریح گاہوں میں معمول کے مطابق رش تھا۔ دفاتر میں حاضری معمول کے مطابق تھی، بچے سکول پہنچنے کے لئے تیار تھے، ایک روز چھٹی کے بعد سکول، کالج، یونیورسٹیاں کھل گئیں، شادی، بیاہ، باراتیں حسب پروگرام چلتی رہیں، یہ سوچ برقرار ہے، زندگی پانی کا بلبلہ ہے، اس کا کوئی اعتبار نہیں، لہٰذا آج کا مزہ لو اور جنازہ جائز کرا لو، اچھی باتوں میں سے ایک یہ ہے کہ کسی نے اشیائے خورونوش ذخیرہ کرنے کا نہیں سوچا کیونکہ سب کی سوچ یہی ہے کہ جنگ بھی فقط چند روز ہوگی اگر ہوئی تو سب امن پر یقین رکھتے ہیں۔ کسی کو اپنے سمیت اپنے کل کی کوئی فکر نہیں۔ آپ اسے بے فکری کی انتہا کہہ سکتے ہیں۔
ہمسائے میں ایک صاحب کے پورچ کی لائٹ خراب ہو گئی، آس پاس والے اس کا گیٹ کھڑکاتے اور کہتے پائے گئے، ابھی تو جنگ شروع نہیں ہوئی، تم نے پہلے ہی بلیک آئوٹ کر لیا ہے، ڈر کیوں گئے ہو۔
ملک بھر میں کسی بھی شہر میں آندھی آ جائے اور کواڑ بج اٹھیں تو ایک طبقے کے دل دہل جاتے ہیں، ایک رات کی ایک گھنٹہ کی جنگ میں ان کا پتہ پانی ہو گیا۔ سٹاک مارکیٹ میں 6500پوائنٹس کی کمی ہو گئی، 429ارب روپے کا نقصان سامنے آ گیا، بھارت گزشتہ پندرہ روز سے جنگ کی دھمکیاں دے رہا تھا۔ اس نے واضح طور پر کہا کہ وہ اپنی پسند کی جگہ پر حملہ کرے گا۔ ہم نے کہا ٹھیک ہے جب کرے گا دیکھ لیں گے۔ افواج نے تو بروقت تیاری رکھی، بروقت جواب بھی دیا لیکن سول ڈیفنس نے حملے کے بعد خطرے کے سائرن ٹیسٹ کئے کہ شائد بجانے کی ضرورت پیش آ جائے۔ بھارتی جارحیت کے بعد سائبر اٹیک کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ حکومت نے الرٹ جاری کر دیا ہے ہر شخص اپنی مرضی کے مطابق الرٹ ہوگا کچھ شاید کبھی الرٹ نہ ہوں گے۔ بھارتی فضائیہ کا طرہ امتیاز سمجھے جانے والے رافیل جہاز ناقابل تسخیر بتائے جاتے تھے۔ وہ یوں ڈھیر کر دیئے گئے، یوں گرے جیسے کٹا ہوا درخت گرتا ہے۔ رافیل طیارے کی مارکیٹ کو ناقابل تسخیر نقصان پہنچا ہے۔ ایک قریبی عزیزہ ڈاکٹر فرح طاہر قاسمی نے فرانس کو مشورہ دیا ہے کہ باقی بچے کھچے رافیل طیارے پاکستان کو بطور تحفہ دے دیئے جائیں تاکہ ہمارے پائلٹ اس کی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرکے دنیا کو بتائیں کہ طیارے میں کوئی خرابی نہیں، اسے اڑانے والے بھارتی پائلٹ نکمے ہیں، بزدل ہیں، جہاز اڑتے ہوئے کم کانپتا ہے وہ اسے اڑاتے ہوئے زیادہ کانپتے ہیں۔
جب سے ہم نے کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتا ہے تب سے کرکٹ میچ کو جنگ کی طرح اور جنگ کو کرکٹ میچ کی طرح لیتے ہیں۔ بھارت کی طرف سے کی گئی جارحیت کو ون ڈے کرکٹ میچ کی طرح لینے والوں کی تعداد پچیس کروڑ آبادی کا نصف تو ضرور ہے۔ ان کے خیال کے مطابق اس میچ میں بھارت نے بغیر ٹاس کئے پہلے خود کھیلنے کا فیصلہ کیا کیونکہ پاکستان کو پہلے باری لینا یعنی پہل کرنا کبھی پسند نہیں رہا، ون ڈے میچ دن اور رات کے وقت کھیلنے کا رواج موجود ہے لہٰذا بھارت نے رات کو کھیل کا آغاز کیا۔ اس نے کھیل کے پہلے گھنٹے میں وہی جارحانہ انداز اختیار کیا جسے پاور پلے کہا جاتا ہے۔ وہ ہمیں دوڑاتا رہا، ہم دوڑتے رہے۔ بہاولپور کے نزدیک احمد پور شرقیہ، مظفر آباد، کوٹلی، سیالکوٹ، شکرگڑھ، ڈھیری، جموں، اونتی پور، اکھنور، بھٹنڈا، مریدکے ہم نے ہر جگہ بہترین فیلڈنگ کی۔ بھارت کوئی بڑا سکور نہ کر سکا، اس کے پانچ بہترین کھلاڑی ناک آئوٹ کر دیئے گئے جس سے اس کی ٹیم کا مورال ٹوٹ گیا۔ بھارت نے متعدد شہروں پر ڈرون اٹیک جاری رکھے جس کے بعد میزائل حملوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ پاکستان کے دیگر اہم شہروں کے ساتھ ساتھ لاہور نشانہ بنا ہے، بھارتی ڈرون گرا لیا گیا ہے، لاہور میں تین جگہوں پر اٹیک کیا گیا ہے۔ دو روز قبل جب بھارت کے 80طیارے فضا میں ہم پر حملہ آور ہو رہے تھے۔ ہمارے طیارے ان کا مقابلہ کر رہے تھے۔ وزیر خارجہ کے مطابق ہم نے طیارے گرانے میں احتیاط روا رکھی، ہم زیادہ طیارے بھی گرا سکتے تھے، بھارتی اننگز جلد ختم ہو جائیگی۔ پاکستان کی طرف سے بھرپور اننگز کا انتظار ہے۔ خدارا اب تو احتیاط اور مصلحت کوشی سے باہر نکلیں، چڑیوں کے کھیت چگنے کا انتظار کیوں؟۔

اپنا تبصرہ لکھیں