لاہور (محمد سلیم مغل سے) پاکستان پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر اور سابق گورنر پنجاب مخدوم سید احمد محمود نے کہا ہے کہ موجودہ ملکی حالات غیر معمولی سنجیدگی، سیاسی بصیرت اور فوری اصلاحی اقدامات کے متقاضی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اتحادی حکومت کے ساتھ چلنا پارٹی کی سیاسی مجبوری ہے، تاہم تحریری معاہدوں پر مکمل عملدرآمد نہ ہونا تشویش کا باعث ہے۔
مخدوم احمد محمود نے پارلیمانی وفد کو ہدایت کی کہ آئندہ بجٹ تک معاملات میں بہتری کا جائزہ لیا جائے اور اس کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے۔ وہ لندن سے پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے رہنماؤں سے ٹیلیفونک گفتگو کر رہے تھے، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی، معاشی اور انتظامی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔
رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ پاکستان اس وقت سیاسی عدم استحکام، گورننس کے فقدان، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے، جن کے حل کیلئےفوری اور مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے۔
مخدوم احمد محمود نے کہا کہ اتحادی سیاست میں باہمی احترام، مشاورت اور معاہدوں کی پاسداری بنیادی اصول ہونے چاہئیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ انتظامی معاملات اور ترقیاتی فنڈز کی تقسیم میں پیپلز پارٹی کے منتخب نمائندوں کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، جو اتحادی روح کے منافی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر سیاسی شراکت داری کو مؤثر بنانا ہے تو تمام اتحادی جماعتوں کو مساوی نمائندگی اور اعتماد دینا ہوگا۔
انہوں نے بیوروکریسی میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ نچلی سطح سے اعلیٰ عہدوں تک شفافیت کا فقدان نظام کی کارکردگی کو متاثر کر رہا ہے۔ عام شہری کو سرکاری دفاتر میں مشکلات، تاخیر اور غیر ضروری رکاوٹوں کا سامنا ہے، جس کے خاتمے کے لیے مؤثر احتسابی اور انتظامی اصلاحات ضروری ہیں۔
مخدوم احمد محمود نے کہا کہ موجودہ حکومت، خصوصاً پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو پالیسی سازی اور عملدرآمد کے درمیان موجود خلا کو کم کرنا ہوگا۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو درپیش انتظامی چیلنجز اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بیوروکریسی اور سیاسی قیادت کے درمیان مؤثر ہم آہنگی ناگزیر ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ پنجاب میں گندم کی فصل کے حوالے سے ایک ممکنہ بحران جنم لے سکتا ہے، جس کے اثرات قومی سطح پر مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کو نظرانداز کرنا معاشی خودمختاری کو کمزور کرنے کے مترادف ہے، اور کسان کو بروقت امدادی قیمت اور پالیسی کا واضح اشارہ نہ ملا تو خوراک کی قلت اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
مخدوم احمد محمود نے ڈالر کی قدر سے متعلق حکومتی پالیسیوں پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ عالمی سطح پر معاشی رجحانات تیزی سے بدل رہے ہیں اور نئے اقتصادی بلاکس جیسے BRICS ابھر رہے ہیں۔ ایسے میں مقامی معیشت کو مصنوعی اقدامات کے بجائے پائیدار اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ مہنگائی اور بے روزگاری میں کمی لائی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ غیر ترقیاتی اخراجات میں اضافہ اور مراعات یافتہ طبقات کو سہولتیں فراہم کرنا جبکہ عام آدمی پر بوجھ ڈالنا معاشرتی عدم توازن کو بڑھا رہا ہے۔ عوام کو ریلیف دینا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔
آخر میں مخدوم سید احمد محمود نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی عوامی مسائل کے حل، جمہوری استحکام اور معاشی انصاف کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے تمام سیاسی و قومی اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ ذاتی و جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دیں اور ملک کو درپیش بحرانوں سے نکالنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں۔

