پاکستان ہاکی فیڈریشن نے قومی کھیل کی بحالی کی جانب ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے لیجنڈری اولمپین اور ‘فلائنگ ہارس’ کے نام سے مشہور سمیع اللہ خان کو پاکستان مینز ہاکی ٹیم کا چیف سلیکٹر مقرر کر دیا ہے۔یہ تقرری پی ایچ ایف کی پروفیشنل ڈویلپمنٹ کمیٹی کی سفارش پر عمل میں لائی گئی ہے، جس میں دنیائے ہاکی کے عظیم کھلاڑی حسن سردار اور اصلاح الدین صدیقی شامل ہیں۔ یہ تقرری پی ایچ ایف کی اس وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد پاکستان میں ہاکی کو ایک بار پھر زندہ کرنا، نچلی سطح (گراس روٹ) پر کام کرنا اور بین الاقوامی سطح پر ٹیم کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔
اس سلسلے میں فیڈریشن نے ایک جامع روڈ میپ بھی جاری کیا ہے۔ جس میں میرٹ کی بنیاد پر ٹیم تشکیل دینے کیلئے سلیکشن کمیٹی، ہیڈ کوچ اور سپورٹ سٹاف کے ساتھ ٹیم کے نئے ڈھانچے کا قیام ہے۔اسکے علاوہ مقامی اور بین الاقوامی مقابلوں کیلئےباقاعدہ شیڈول کی تیاری بھی کی جارہی ہے جبکہ ایمپائرز اور آفیشلز کے لیے جدید ٹیکنیکل ایجوکیشن کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔
پی ایچ ایف نے ملک بھر سے نوجوان کھلاڑیوں کی تلاش اور ان کی تربیت کے لیے تعلیمی اداروں میں ہاکی کے فروغ کے حوالے سے اقدامات کا اعادہ کیا ہے۔فیڈریشن سکولوں اور کالجوں کی سطح پر ہاکی کو فروغ دینے، انٹر سکول اور انٹر کالجیٹ مقابلوں کے انعقاد اور کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ایک ہائی پرفارمنس سینٹر کے قیام پر بھی کام کر رہی ہے۔
اس حوالے سے صدر پی ایچ ایف محی الدین وانی نے کہا ہے کہ ہم پاکستان ہاکی کو دوبارہ بلندیوں پر لے جانے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ اولمپین سمیع اللہ خان کی قیادت میں ہماری سلیکشن کمیٹی بہترین نتائج دے گی اور ہماری ٹیم اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے تمام سٹیک ہولڈرز، سپانسرز اور ہاکی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس روڈ میپ پر عملدرآمد کے لیے تعاون کریں تاکہ پاکستان کو کھویا ہوا مقام واپس مل سکے۔

